حکومت پر مجھے تحفظات ہیں یہ دھاندلی کی پیداوار ہے، حکومت اسٹیبلشمنٹ کی مینجمنٹ ہے، چیف الیکشن کمشنر کو اب چلے جانا چاہئے
ٹرمپ کا غزہ کو خریدنے کا اعلان نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہے، ہر آزاد ملک کی حریت کیلئے لڑیں گے:اسلام آبادمیں تقریب سے خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد کی اعلی عدلیہ کے ججز سے ملاقات پاکستان اور دنیا کی تاریخ میں انوکھا واقعہ ہے، بہترین معیشت کا تعلق عدل و انصاف کے ساتھ ہے، لگتا ہے آئی ایم ایف کو ہمارے عدل وانصاف سے تحفظات ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کتاب کی تقریب رونمائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا اس میں کیا طے ہوا، اس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی کھانے کی دعوت پر گئے تھے، جب بیٹھتے ہیں تو بہت سی باتیں ہوتی ہیں۔موجودہ حکومت پر مجھے تحفظات ہیں یہ دھاندلی کی پیداوار ہے، موجودہ حکومت اسٹبلشمنٹ کی مینجمنٹ ہے، چیف الیکشن کمشنر کو اب چلے جانا چاہئے۔انہوں نے کہا اپوزیشن کا آپس میں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، چھبیس ترمیم پر تحفظات ہیں، ہماری رائے آئینی عدالت کی تشکیل کی تھی لیکن آئینی بینچ کا بننا برا آغاز نہیں ہے، آئینی بینچ کو چلنے دیا جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی طرف سے پیش رفت نہیں ہورہی، وفاق اور صوبوں کو اپنی زمہ داری بغیر دباؤ کے پوری کرنی چاہیے، طریقہ کار یہی ہے جو وفاق قانون سازی کرے صوبے بھی اسی کے تحت قانون سازی کرے، چیف الیکشن کمشنر نے اپنی زمہ داریاں ٹھیک نہیں نبھائیں، الیکشن کمیشن نے اسٹیبلیشمنٹ کی کٹھ پْتلی کا کردار ادا کیا ہے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ آج بھی ٹرمپ کہتا ہے میں غزہ کو خرید لوں گا، یہ ایک مرتبہ پھر نوآبادیاتی نظام کا آغاز ہے، دنیا کے کسی بھی آزاد ملک کی حریت کے لیے ہم لڑیں گے۔