ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کے مشہور قتل کیس کی تحقیقات میں اہم اور ڈرامائی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) میں بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ایبٹ آباد ہارون رشید کو جے آئی ٹی سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ اے آئی جی سونیا شمروز کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی صرف دو روز قبل تشکیل دی گئی تھی، تاہم تفتیشی عمل پر تحفظات کے پیش نظر ٹیم میں فوری رد و بدل کیا گیا۔ جے آئی ٹی کی سربراہی چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم خیام حسن کر رہے ہیں۔جے آئی ٹی نے گزشتہ روز کیس میں 30 سے زائد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جن میں مقتولہ ڈاکٹر وردہ کے قریبی عزیز، دوست اور پولیس کے متعدد اہلکار شامل ہیں۔ ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر اپنی حتمی رپورٹ چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو پیش کرے تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر وردہ کے قتل میں گرفتار چاروں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں تین دن کی توسیع کی تھی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ایبٹ آباد کے ایک مقامی اسپتال میں کام کرنے والی نوجوان ڈاکٹر وردہ کو 4 دسمبر 2025 کو ان کی دوست ردا نے بینظیر شہید ڈسٹرکٹ ہسپتال سے اغوا کیا۔ بعد ازاں ردا نے اپنے ساتھیوں ندیم، پرویز اور شمرائز کی مدد سے انہیں قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ندیم تاحال مفرور ہے، جس کی گرفتاری میں تاخیر پر مقتولہ کے اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر وردہ نے 2023 میں 67 تولہ سونا بطور امانت اپنی دوست ردا کے پاس رکھا تھا۔ سونا واپس لینے کے معاملے پر دونوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا، حتیٰ کہ جرگہ بھی ہوا، مگر مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ مقتولہ کے لواحقین کے مطابق یہی تنازعہ قتل کی بنیادی وجہ بنا۔واقعے کے روز ملزمہ ردا نے سونا واپس کرنے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو اسپتال سے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور انہیں رحمن اسٹریٹ، جدون پلازہ میں واقع اپنے زیرِ تعمیر گھر لے گئی، جہاں پہلے سے موجود ملزمان نے مبینہ طور پر انہیں قتل کر دیا۔ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت گردن کی ہڈی ٹوٹنے اور دم گھٹنے کے باعث ہوئی، جبکہ طبی ماہرین کے مطابق موت موقع پر ہی واقع ہو گئی تھی۔ رپورٹ کو مزید تجزیے کے لیے فرانزک لیب بھیج دیا گیا ہے۔مقتولہ کے اہل خانہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ کیس میں شامل تمام ملزمان کو گرفتار کر کے شفاف اور غیر جانبدار انصاف فراہم کیا جائے۔ ڈاکٹر وردہ دو بچوں کی والدہ تھیں، وہ اپنے والد کے ساتھ رہتی تھیں جبکہ ان کے شوہر جنوبی کوریا میں ملازمت کرتے ہیں۔