لاہور میں موسم جزوی طور پر ابر آلود ہے جبکہ شہر میں بارش کے امکانات صرف 10 فیصد بتائے جا رہے ہیں۔
تاہم موسم کی اس بہتری کے باوجود فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔محکمہ ماحولیات کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی کی مجموعی شرح 317 اے کیو آئی ریکارڈ کی گئی، جو صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دی جا رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں آلودگی کی صورتحال مزید تشویشناک رہی، کینٹ کے علاقے میں آلودگی کی شرح 584، برکی روڈ پر 492، عسکری ٹین میں 376 جبکہ علامہ اقبال ٹاؤن میں 254 ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں ہوا کی رفتار 6 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جو اسموگ اور فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔