شطرنج کے عالمی دفاعی چیمپئن چین کے ڈنگ لیرن پر جان بوجھ کر ہارنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
روسی شطرنج فیڈریشن کے سربراہ آندرے فلاتوف نے کہا کہ لیرن کی شکست غیر معمولی تھی، اور ان کے اس کھیل پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ سنگاپور میں عالمی شطرنج چیمپئن شپ کے فائنل میں پیش آیا، جہاں بھارت کے 18 سالہ شطرنج کھلاڑی ڈی گوکیش نے چین کے ڈنگ لیرن کو شکست دے کر سب سے کم عمر شطرنج کے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس میچ میں ڈنگ لیرن کی شکست نے شطرنج کے شائقین کو حیران کن طور پر چونکا دیا۔ فلاتوف نے کہا کہ ڈنگ لیرن جس پوزیشن میں تھے، وہاں سے ہارنا ممکن نہیں تھا، اور یہ اقدام بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ لیرن نے جان بوجھ کر میچ ہارنے کا فیصلہ کیا۔
ڈی گوکیش نے اس میچ میں 7.5 پوائنٹس حاصل کیے، جب کہ ڈنگ لیرن 6.5 پوائنٹس کے ساتھ ٹورنامنٹ کے اختتام پر دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کے اس کھیل پر مختلف شطرنج کے ماہرین اور کھلاڑیوں نے سوالات اٹھائے ہیں اور تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔