وفاقی وزیرِ تعلیم و ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات کے امور کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے مدارس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ مدارس کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ مدارس ہیں جنہوں نے معاشرتی اور تعلیمی ذمہ داریاں اٹھا رکھی ہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پاکستان میں جمہوریت کی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ یہاں جمہوریت کی بجائے جاگیردانہ نظام کو جمہوریت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سندھ میں 50 سال سے جاری کوٹہ سسٹم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ سسٹم ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے معاشی بحران بھی پیدا ہو چکا ہے اور یہ بحران 2024ء کے انتخابات کے بجائے 2018ء کے انتخابات کے اثرات کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018ء میں جو حکومت آئی، اس نے کراچی کے مسائل پر توجہ نہیں دی اور اس شہر کے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کی۔وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دراصل ٹریڈ ڈیفیسٹ نہیں بلکہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ کا مسئلہ ہے۔ اس بیان کا مقصد حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی کمی کو ظاہر کرنا تھا جس کا اثر معیشت پر بھی پڑا۔