بغداد: عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے واضح کیا ہے کہ عراق اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان انہوں نے عراق کے ایئر ڈیفنس کمانڈ آپریشنز سینٹر کے دورے کے دوران دیا، جہاں انہوں نے ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔عراقی وزیراعظم نے کہا کہ عراق اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکے گا، اور اس کی پالیسی ملک کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے منصوبوں پر بھی بات چیت کی۔ عراقی حکام کے مطابق، موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں، فضائی حدود کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔عراق جغرافیائی طور پر اہم مقام رکھتا ہے، کیونکہ اس کی سرحدیں کئی ایسے ممالک سے ملتی ہیں جو خطے کی موجودہ کشیدگی سے براہ راست متاثر ہیں۔ اس وجہ سے بغداد کو اپنی فضائی حدود کے ممکنہ فوجی استعمال کے حوالے سے محتاط رہنا پڑ رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے باعث مختلف ممالک کی فضائی حدود اور سرزمین کے استعمال پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔عراقی حکومت کے مطابق، ملک کسی بھی فریق کو اپنی سرزمین یا فضائی حدود کے ذریعے دوسرے ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد عراق کو علاقائی تنازعات میں براہ راست فریق بننے سے بچانا اور ملک کی خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے۔ عراق کی فضائی دفاعی صلاحیت میں بہتری اور فضائی حدود کی سخت نگرانی موجودہ حالات میں بغداد کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کسی بھی غیر مجاز فوجی کارروائی کے نتیجے میں عراق خود بھی علاقائی کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے۔