پاک سعودیہ دفاعی تعاون معاہدہ کیوں ہوا؟

تصور حسین شہزاد
قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد چند روز کے اندر ہی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالی حالیہ پیشرفت کا ردعمل ہے۔ 17 ستمبر کو سعودی عرب اور پاکستان نے ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی پیشرفت کی علامت اشارہ بھی ہے۔ 9 ستمبر کو قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد علاقائی کشیدگی اور فیصلہ کن امریکی ردعمل کے فقدان کے تناظر میں اس معاہدے کو خلیجی ریاستوں کے امریکی سلامتی کے وعدوں پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے ردعمل سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس معاہدے نے اسرائیل کو ایک قطعی پیغام بھیجا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے فوجی، اقتصادی اور مذہبی تعاون پر مبنی تعلقات ہیں۔ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کا حامل واحد اسلامی ملک ہے، اپنے ایٹمی پروگرام کے آغاز سے سعودی، ایرانی اور لیبیائی مالی امداد سے مستفید ہوا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے معاہدے میں کسی بھی جارحیت کیخلاف باہمی دفاع کے مشترکہ عزم کی وضاحت کی گئی ہے۔ پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے سرکاری بیان میں اس معاہدے کو باہمی ڈیٹرنس اور علاقائی امن کو مضبوط کرنے کیلئے ایک قدم قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کا وقت، قطر پر اسرائیل کے حملے کے صرف ایک ہفتے بعد، واضح طور پر کچھ فوری محرکات کی نشاندہی کرتا ہے۔
جیسا کہ ایک سینئر سعودی اہلکار نے خبررساں ادارے’’رائٹرز‘‘سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاہدہ برسوں کے مذاکرات کا نتیجہ تھا اور یہ کسی خاص واقعہ کا ردعمل نہیں۔ تاہم، قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال اور اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ کیطرف سے فوری اور واضح ردعمل نہ آنے کی وجہ سے، دنیا کے تجزیہ کاروں کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کیا ہے کہ یہ معاہدہ حالیہ پیشرفت کا ایک تزویراتی ردعمل ہے۔ اس معاہدے میں "تمام فوجی اثاثے" استعمال کرنا شامل ہے، یہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری چھتری فراہم کرنے کے امکان کو ظاہر کرتا ہے، لیکن بظاہر سعودی حکام نے اسے محض ایک "جامع دفاعی معاہدہ" قرار دیا ہے۔

9ستمبر 2025 کو قطر پر اسرائیل کا حملہ، خلیجی ریاستوں کی علاقائی سلامتی کے تصورات اور تفہیم میں تبدیلی کا سبب بنا۔ دوحہ میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنا کر، جو غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کر رہے تھے، اسرائیل نے نہ صرف قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، بلکہ قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں پر علاقائی اور عالمی اعتماد کو مجروح کرنے کیساتھ ساتھ قطر کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس حملے میں ایک قطری سکیورٹی افسر سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، عرب ممالک کی جانب سے اس حملے کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی۔ قطر نے اسے "ریاستی دہشتگردی" قرار دیا اور سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، لیکن امریکہ نے صرف تشویش کا اظہار کیا۔ حالانکہ امریکہ نہ صرف قطر کا اہم اتحادی ہے، بلکہ اس کے پاس دوحہ کا وسیع و عریض العدید فوجی اڈہ بھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی واضح مذمت کیے بغیر اس حملے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے حماس کو ختم کرنے کے ہدف پر زور دیا۔ قطر کو اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچنے اور العدید ایئربیس کو استعمال کرنیوالے امریکہ کا یہ کمزور موقف خلیجی ریاستوں کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ قطر کو واشنگٹن کی مضبوط حمایت کی توقع تھی اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ اسرائیل کیخلاف امریکی تحفظ کی ضمانتیں غیر موثر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قیاس چکنا چور ہوگیا ہیکہ خلیجی ریاستیں سلامتی کے حتمی ضامن کے طور پر امریکہ پر انحصار کرتی تھیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر متعدد پوسٹیں اس عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں، جیسا کہ صارفین کہہ رہے ہیں کہ "قطر پر اسرائیل کے حملے اور امریکہ کی خاموشی نے خلیج کو نئے اتحادوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔" یہ عدم اعتماد سعودیہ پاکستان معاہدے کا ایک اہم محرک تھا، کیونکہ اس صورتحال میں ریاض واشنگٹن پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے متبادل تلاش کر رہا ہے۔
قطر پر اسرائیلی حملے کے بہت دور رس نتائج نکلے، جو قطر اور امریکہ کے باہمی تعلقات سے آگے نکل چکے ہیں۔ اس کے پانچ نقاط قابل غور ہیں، اول، اس حملے نے غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کو بْری طرح متاثر کیا، جس میں قطر ثالثی کر رہا تھا۔ اگرچہ قطر نے کہا ہے کہ وہ اپنا ثالثی کا کردار جاری رکھے گا، لیکن اس عمل میں اعتماد ختم ہو گیا۔ دوسرا، اس واقعے نے عرب اتحاد کو مضبوط کیا۔ 15 ستمبر کو عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں قطر کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا اور اسرائیل کو مزید حملوں کی صورت میں ردعمل کی وارننگ بھی دی گئی۔ تیسرا، اس حملے نیخلیجی ریاستوں کیلئے اسرائیل کو سلامتی کے خطرے کے طور پر واضح کر دیا ہے۔ ترجیحات میں اس تبدیلی نے خلیجی ریاستوں کو اپنی سکیورٹی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔ چوتھا، اقتصادی نقطہ نظر سے، امریکہ پر عدم اعتماد توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام کو متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ خلیج فارس تیل اور گیس کا ایک بڑا منبع اور ذریعہ ہے۔ پانچواں، واشنگٹن پر اعتماد میں کمی بھی امریکہ کیساتھ تعلقات میں کم سرمایہ کاری اور چین اور ایران جیسی طاقتوں کے ساتھ تعاون میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
سعودیہ پاکستان معاہدے کا ایک اہم مقصد اسرائیل کو ڈیٹرنس کا پیغام دینا تھا۔ قطر پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل تیزی سے جارحانہ رجحان کیوجہ سے امریکہ کے قریبی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانے کیلئے تیار ہے۔ اسی وجہ سے ریاض میں گہری تشویش پیدا ہوئی۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کیساتھ غیر رسمی سفارتی تعلقات کو بھی مضبوط کیا تھا۔ پاکستان کیساتھ جوہری صلاحیتوں کے استعمال کے حامل معاہدے پر دستخط تل ابیب کیلئے ایک واضح پیغام تھاکہ سعودی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ جواب جوہری حملہ بھی ہو سکتا ہے۔
سعودیہ بقیہ خلیجی ریاستوں کی طرح اسرائیل کو حقیقی خطرہ قرار دے رہا ہے، یہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں تیز رفتار اور غیر متوقع تبدیلیوں کا ایک کثیر جہتی ردعمل ہے۔ قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکی سلامتی کے وعدوں پر عدم اعتماد نے خلیجی ریاستوں کو متبادل اتحاد تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ نہ صرف واشنگٹن پر انحصار کا متبادل ہے، بلکہ اسرائیل کو ایک مضبوط پیغام بھی دیتا ہے کہ سعودی عرب ہر ممکن طریقے سے اپنے دفاع کیلئے تیار ہے۔ یہ نتائج عرب اسلامی اتحاد کو مضبوط کرنے سے لیکر خلیج فارس میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے تک علاقائی مساوات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔