ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پاکستانی ٹیم کی عبرتناک شکست، شعیب اختر کا شدید ردعمل

ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پاکستانی ٹیم کی عبرتناک شکست، شعیب اختر کا شدید ردعمل

ویب ڈیسک: سابق قومی فاسٹ بولر شعیب اختر نے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پاکستان کی 34 سال بعد ون ڈے سیریز میں شکست پر ٹیم اور مینجمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

تیسرے ون ڈے میں ناکامی کے بعد سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بطور ٹی ٹوئنٹی کوچ تو بہتر ہیں مگر ون ڈے فارمیٹ میں ان کا انداز سمجھ سے باہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ون ڈے کرکٹ میں کامیابی کے لیے بیٹنگ، بولنگ اور اسپن سمیت تمام شعبوں میں آزمودہ کھلاڑیوں کو کھلانا ضروری ہے، ورنہ 50 اوورز مکمل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ فارمیٹ صرف گزارے سے نہیں جیتا جا سکتا۔شعیب اختر نے شکست کا الزام کھلاڑیوں کے بجائے پالیسیوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے، سیم پچز پر ہمیشہ یہی حال ہوگا۔ اب ری بلڈنگ کو محض "کمبی نیشن بنانے" کا نیا نام دے دیا گیا ہے۔ طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ شکر کریں پیٹ کمنز اور مچل اسٹارک یہاں نہیں تھے، ایسی کنڈیشنز میں ہمارے کھلاڑی بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے 34 سال بعد پاکستان کو ون ڈے سیریز میں شکست دی ہے۔ یہ کامیابی کیریبین ٹیم کی پاکستان کے خلاف 10 سیریز میں مسلسل ناکامی کے بعد پہلی فتح ہے۔سیریز کے فیصلہ کن میچ میں ویسٹ انڈیز نے 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 294 رنز بنائے، جس میں کپتان شائی ہوپ کے 120، جسٹن گریوز کے 43، ایون لیوس کے 37 اور روسٹن چیز کے 36 رنز شامل تھے۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن بری طرح ناکام ہوئی اور پوری ٹیم صرف 29.2 اوورز میں 92 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ کپتان سلمان علی آغا 30 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، محمد نواز 23 رنز پر ناٹ آؤٹ اور حسن نواز 13 رنز بنا سکے، جبکہ پانچ بیٹرز بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے۔