واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان نے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بھی بات چیت ہوئی۔
پریس بریفنگ میں ٹیمی بروس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی مذاکرات ہوئے جن میں بی ایل اے، داعش اور ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اقدامات پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اسٹریٹیجی تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت تنازع ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، تاہم امریکا نے بروقت مداخلت کر کے ممکنہ تباہی کو روکا۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کشیدگی کم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹیمی بروس نے صحافیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا، لیکن دعویٰ کیا کہ حماس کے بعض جنگجو صحافیوں کے روپ میں عام آبادی میں گھل مل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ دنیا بھر میں امن کے قیام کے خواہاں ہیں، اور آرمینیا-آذربائیجان معاہدہ اس کا ثبوت ہے، جبکہ روس-یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔