ایف آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے: وزیرِ داخلہ

ایف آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے: وزیرِ داخلہ

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ ایک نئے اور مؤثر ادارے کے طور پر سامنے آئے گا۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایف آئی اے ماضی میں بہتر کارکردگی دکھاتی تو نیب جیسے ادارے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کے مطابق اداروں کی کمزوریوں کی وجہ سے بعض فرائض دوسرے اداروں کو منتقل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایف آئی اے کو صرف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، جبکہ اس کی ادارہ جاتی بہتری پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق اب مقصد ادارے کو مضبوط، فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔وزیرِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایف آئی اے کے تمام دفاتر کی حالت بہتر بنائی جائے گی اور ملازمین کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ ترقیوں میں رکاوٹیں دور کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ خود اس عمل کی نگرانی کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ادارے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے اور اگر کوئی اہلکار کرپشن میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔محسن نقوی کے مطابق ایف آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اہلکاروں کی سہولتوں میں اضافہ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔