ایران اسرائیل کشیدگی پر خاموشی، نریندر مودی کو شدید تنقید کا سامنا

ایران اسرائیل کشیدگی پر خاموشی، نریندر مودی کو شدید تنقید کا سامنا

بھارت میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر حکومت کی خاموشی ایک بڑے سیاسی بحث و مباحثے کا سبب بن گئی ہے، جس پر وزیراعظم نریندر مودی کو اندرونی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ  کی ایک رپورٹ کے مطابق اس خطے میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا نظر آیا ہے، اور اس کی کوششوں کے باعث ایک بڑی علاقائی جنگ کے خدشات میں کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پیش رفت نے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کو نئی سمت دی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اس کردار پر بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس صورتحال میں بھارت کا مؤثر کردار سامنے نہیں آ سکا۔بھارتی کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھی اس بحث کے دوران ایک بیان میں تسلیم کیا کہ بعض سفارتی معاملات میں پاکستان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔

 ان کے اس مؤقف کو بھارتی سیاست میں خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے اور مختلف حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں بعض سیاسی اور عوامی حلقوں کے درمیان اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے جذباتی تقسیم بھی پائی جاتی ہے، اور اس کی وجوہات پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال خطے کی سفارتی پیچیدگیوں اور بدلتے ہوئے سیاسی توازن کو ظاہر کرتی ہے، جس میں ایران، اسرائیل، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کے کردار پر مسلسل بحث جاری ہے۔