واشنگٹن / نئی دہلی: امریکا کی سخت امیگریشن پالیسی کے تحت 332 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر دیا گیا، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ملک بدری کی تفصیلات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے تحت فروری میں تین فوجی پروازوں کے ذریعے بھارت کے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا گیا۔مزید بھارتی شہریوں کو وسطی امریکی ممالک بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ملک بدر کیے گئے افراد کو کوسٹا ریکا کے عارضی حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں سخت مشکلات، بدسلوکی اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
متاثرین کا مؤقف
ایک بھارتی شہری نودیپ سنگھ نے انکشاف کیا کہ:"ہمیں خود اپنے وطن واپسی کے اخراجات برداشت کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں، اور ہمیں یہاں کھلی جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔"
بھارتی حکومت پر شدید تنقید
ملک بدری کے بعد بھارتی حکومت کی خاموشی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔متاثرہ افراد کے اہل خانہ نے مودی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے ملک بدری کو "پنجاب اور پنجابیوں کو بدنام کرنے کی سازش" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "مودی سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے"۔تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی کے حالیہ امریکی دورے کے باوجود بھارتی شہریوں کی ملک بدری پر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونا بھارت کی کمزور خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارتی حکومت پر دباؤ
بھارتی حکومت پر تنقید بڑھ رہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو رہی ہے اور ملک بدر کیے گئے غیر قانونی تارکین وطن کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔