ترکیہ کی حکومت نے صدر رجب طیب اردوان سے منسوب اسرائیل یا خطے میں جنگی صورتحال سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کو مکمل طور پر من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے ۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ تیزی سے پھیلایا جا رہا تھا کہ مبینہ طور پر صدر اردوان نے کہا ہے کہ اگر ایران یا لبنان پر کوئی حملہ ہوا تو اسے ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم سرکاری ذرائع نے اس بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ جملہ نہ تو صدر اردوان سے منسوب کسی سرکاری بیان میں موجود ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سرکاری حیثیت ہے۔ترکیہ کے سرکاری مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی جھوٹی خبریں اور جعلی بیانات دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں تاکہ عوامی رائے کو گمراہ کیا جائے اور ترکیہ کے متوازن، اصولی اور سفارتی مؤقف کو مسخ کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق ترکیہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ قومی مفادات، علاقائی استحکام اور سفارتی حل پر مبنی رہی ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ترکیہ نے مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور امن کے فروغ کو ترجیح دی ہے، اور عالمی سطح پر بھی اس کے کردار کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں اس طرح کی افواہیں نہ صرف غلط معلومات پھیلانے کا باعث بنتی ہیں بلکہ خطے میں غیر ضروری تناؤ کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر اس طرح کی غلط اور غیر مصدقہ معلومات کا پھیلاؤ ایک منظم رجحان کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس کا مقصد سیاسی بیانیے کو متاثر کرنا اور ریاستی پالیسیوں کے بارے میں شکوک پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے ان کی تصدیق لازمی کریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ترکیہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈا مہمات کے خلاف اپنا مؤقف مضبوطی سے جاری رکھے گا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں بدستور جاری رکھے گا۔