ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گا اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا تخریبی کارروائی سے محفوظ رہے گا۔

صدر اردوان نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ خطے کی حالیہ کشیدہ صورتحال، جو 28 فروری سے جاری تھی اور پورے خطے کو عملی طور پر جنگ کے دہانے پر لے آئی تھی، کے بعد یہ جنگ بندی ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل امتحان اس بات کا ہے کہ یہ جنگ بندی عملی میدان میں کس حد تک مؤثر انداز میں برقرار رکھی جاتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ اشتعال، سازش یا تخریب کاری کو موقع دیے بغیر اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے، کیونکہ معمولی سی لغزش بھی دوبارہ کشیدگی پیدا کر سکتی ہے۔صدر اردوان نے اس موقع پر ان تمام ممالک اور شخصیات کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے جنگ بندی میں کردار ادا کیا، خاص طور پر پاکستان کو دوست اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے اس کی سفارتی کوششوں کو دل سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطہ ماضی میں طویل عرصے تک جنگ، تصادم، کشیدگی اور انسانی المیوں کا شکار رہا ہے اور اب وقت ہے کہ یہاں کے عوام کو امن، سکون اور استحکام حاصل ہو۔صدر اردوان نے کہا کہ پائیدار امن نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے اور اس کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ ہمیشہ کی طرح خطے اور عالمی سطح پر امن، مکالمے اور مفاہمت کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور ہر ایسے اقدام کی حمایت جاری رکھے گا جو دنیا کو تنازعات سے نکال کر استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جائے۔