وزیرِ اعظم شہباز شریف آئندہ 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کے اہم سرکاری دورے پر روانہ ہونے کا امکان ہے، جس میں ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا حکومتی وفد بھی شریک ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یہ دورہ سعودی ولی عہد کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی روابط کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی سعودی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی کے شعبے میں اشتراک اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی پیش رفت ہو سکتی ہے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر خطے کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی نئی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اس دورے کو مزید اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ دورہ خطے میں توازن، معاشی شراکت داری اور اسٹریٹجک روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے برادرانہ بنیادوں پر قائم ہیں، اور دونوں ممالک مشکل معاشی اور سیاسی ادوار میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ اس متوقع دورے کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ملکی معیشت اور خطے کی سیاست پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔