ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور اس کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے اور امریکا کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے یا نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا تاکہ اسے اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنا پڑے۔ ایک اور بیان میں ٹرمپ نے مذہبی شخصیت پوپ لیو چہاردہم کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔اس سے قبل وہ پاکستان کی قیادت، خاص طور پر وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی اور ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام جلد موجودہ پیٹرول قیمتوں کو سستا سمجھیں گے اور مستقبل میں 4 سے 5 ڈالر فی گیلن تک قیمتیں معمول بن سکتی ہیں۔