آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے تک مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ مشکل ہے:دفاعی ماہرین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے تک مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ مشکل ہے:دفاعی ماہرین

سفارتی اور دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے امکانات غیر یقینی ہیں، خصوصاً اس وقت جب آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال برقرار ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب اور سابق صدر سکیورٹی کونسل منیر اکرم نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت مکمل معاہدے کے مقابلے میں محدود سطح پر سیز فائر کا امکان زیادہ ہے۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے حل کے بغیر جامع مذاکرات آگے بڑھنا مشکل ہیں۔دوسری جانب آصف درانی اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور سخت موقف مذاکراتی عمل کو متاثر کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے پر کشیدگی کم نہیں ہوتی اور فریقین ایک دوسرے کے خلاف سخت اقدامات سے باز نہیں آتے، اس وقت تک مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔مجموعی طور پر تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری کا راستہ اگرچہ موجود ہے، لیکن اس کے لیے اعتماد سازی اور کشیدگی میں واضح کمی ناگزیر ہے۔