اقتدار کی جنگ یا عوام کے مسائل کا امتحان؟

ڈاکٹر تصور حسین مرزا
پاکستان کی سیاسی فضا ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات، احتجاجی اعلانات، سیاسی بیانات اور باہمی الزام تراشی نے قومی منظرنامے کو مسلسل متاثر کر رکھا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں جاری اس کشمکش کے درمیان ایک بنیادی سوال اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے: کیا ہماری سیاست کا محور عوامی مسائل ہیں یا اقتدار کا حصول اور تحفظ؟
جمہوریت میں اختلافِ رائے، حکومت پر تنقید اور احتجاج شہریوں کے بنیادی سیاسی حقوق ہیں۔ تاہم ان حقوق کے ساتھ عوامی زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری بھی جڑی ہے۔ احتجاج اگر پُرامن اور آئینی دائرے میں ہو تو جمہوری عمل کا حصہ بنتا ہے، لیکن جب سیاسی تصادم کاروبار، تعلیم، علاج، روزگار اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہری کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
دوسری جانب ریاستی اداروں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے نمٹتے ہوئے قانون، آئین اور بنیادی شہری حقوق کو مقدم رکھیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں طاقت کے بجائے دلیل، مذاکرات اور قانونی راستوں کو ترجیح دینا سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان کے عوام کو آج سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ایندھن کی قیمتیں، بے روزگاری، کاروباری مشکلات اور محدود قوتِ خرید نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایک مزدور کے لیے گھر کا بجٹ چلانا، ایک نوجوان کے لیے روزگار حاصل کرنا اور ایک چھوٹے کاروباری کے لیے اخراجات پورے کرنا روز بروز بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
ایسے حالات میں حکومتی کارکردگی کا اصل پیمانہ بلند و بانگ دعوے نہیں بلکہ عوام کو ملنے والا حقیقی ریلیف ہے۔ اگر پالیسیوں کے ثمرات عام شہری تک نہیں پہنچتے تو معاشی ترقی کے اعداد و شمار بھی اس کی مشکلات کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتے۔ عوام کو ایسی حکمتِ عملی درکار ہے جو مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع، توانائی کے مسائل کے حل اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مدد دے۔
اپوزیشن کا کردار بھی محض حکومت مخالف بیانات یا احتجاج تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مؤثر اپوزیشن متبادل معاشی و انتظامی پالیسی پیش کرتی ہے، پارلیمان میں قانون سازی پر بحث کرتی ہے اور عوامی مسائل کو ٹھوس تجاویز کے ساتھ اجاگر کرتی ہے۔ احتجاج اس وقت زیادہ بامعنی بنتا ہے جب اس کے مطالبات واضح، طریقہ کار پُرامن اور مقصد عوامی مفاد سے جڑا ہو۔
اسی طرح حکومت کو بھی تنقید کو سیاسی دشمنی سمجھنے کے بجائے احتساب اور اصلاح کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ اختلاف رکھنے والی جماعتوں سے مذاکرات، پارلیمانی اداروں کی مضبوطی اور سیاسی معاملات میں شفافیت ملک میں اعتماد کی فضا پیدا کر سکتی ہے۔ سیاسی استحکام کسی ایک جماعت کی ضرورت نہیں بلکہ معیشت، سرمایہ کاری، روزگار اور ریاستی نظم و نسق کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ محاذ آرائی کا طویل سلسلہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، مگر عوام کے بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار مستقل نہیں، ریاست اور عوام مستقل ہیں۔
قومی معاملات پر کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معیشت، تعلیم، صحت، توانائی، امن و امان اور روزگار ایسے شعبے ہیں جنہیں سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی قومی مفاد کے معاملات پر تعاون کر سکتی ہیں
عوام کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوں، ان کی بنیادی خواہشات تقریباً یکساں ہیں۔ وہ عزت کے ساتھ روزگار، محفوظ ماحول، معیاری تعلیم، قابلِ رسائی علاج اور معاشی آسودگی چاہتے ہیں۔ وہ ایسی سیاست کے خواہش مند ہیں جس میں ان کے مسائل انتخابی نعروں کا حصہ بننے کے بجائے عملی ترجیحات میں شامل ہوں۔
پاکستان کو آج ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی، تنقید کو غداری اور اقتدار کو ذاتی کامیابی کا نام نہ دے۔ سیاسی بلوغت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی کارکردگی سے جواب دے، اپوزیشن دلیل اور آئینی جدوجہد سے اپنا مؤقف پیش کرے، ادارے قانون کے مطابق کام کریں اور عوام کو سیاسی کشمکش کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔
اقتدار کی کشمکش سیاست کا ایک پہلو ہو سکتی ہے، لیکن عوامی خدمت اس کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔ جب سیاسی قیادت اس فرق کو سمجھ لے گی تو سیاست محض اقتدار کی دوڑ نہیں رہے گی بلکہ قومی تعمیر، عوامی فلاح اور بہتر مستقبل کا ذریعہ بن سکے گی۔ پاکستان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے، بلکہ یہ ہے کہ اقتدار رکھنے والے عوام کے لیے کیا کر رہے ہیں