پاکستان کا جوا: ایک تیز طوفان میں ثالث

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
مشرقِ وسطی ایک بارپھرتاریخ کے اس موڑپرکھڑاہے جہاں بارودکی بو،سفارت کاری کی سرگوشیوں کودبادینے کی کوشش کررہی ہے۔ایران پرامریکااوراسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی سیاست،معیشت اورطاقت کے توازن کوہلاکررکھ دیاہے۔ایک ماہ سے زائد عرصے پرمحیط یہ کشیدگی اس حقیقت کوآشکارکررہی ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طاقت کی زبان،دلیل اورمذاکرات پرغالب آنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگراس بارمعاملہ کچھ مختلف ہے؛اس بارمیدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذبھی پوری شدت سے گرم ہے۔
یہ تنازع صرف میزائلوں اوربمباری تک محدودنہیں بلکہ اس کے پیچھے ایسے پیچیدہ سیاسی مقاصداورحکمت عملیاں کارفرما ہیں جنہیں سمجھناآسان نہیں۔امریکاکی جانب سے ایک طرف مذاکرات کی پیشکش اوردوسری طرف جارحانہ کارروائیاں،ایک ایسی دوہری پالیسی کوظاہرکرتی ہیں جسے ماہرین’’کیرٹ اینڈ اسٹک‘‘کانام دیتے ہیں۔اس حکمت عملی کے ذریعے واشنگٹن بیک وقت دبااورترغیب دونوں کااستعمال کررہاہے،لیکن اس کے حقیقی مقاصدآج بھی دھندمیں لپٹے ہوئے ہیں۔دوسری جانب ایران نے غیرمعمولی صبر،حکمت اورمزاحمت کامظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ سفارتی سطح پربھی اپنے مخالفین کوچیلنج کیاہے۔آبنائے ہرمزجیسے حساس جغرافیائی مقام پراس کااثرورسوخ عالمی معیشت کیلئے ایک فیصلہ کن عنصربن چکاہے،جس کے اثرات دنیابھرمیں محسوس کیے جارہے ہیں۔
اسی پیچیدہ اورنازک صورتحال میں پاکستان ایک ایسے کردارکے طورپرابھراہے جس کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ایک طرف ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات،دوسری جانب امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط ،یہ توازن پاکستان کوایک منفردحیثیت دیتاہے۔اسلام آبادمیں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں اورمختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان مشاورت اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ممکنہ طورپرامن کاایک کلیدی معماربن سکتاہے۔یہ مضمون اسی تناظرمیں اس جنگ کے پس پردہ عوامل،امریکاکے مبہم اہداف،ایران کی حکمت عملی اورسب سے بڑھ کر پاکستان کے ثالثی کردارکاتفصیلی جائزہ لے گا۔ساتھ ہی یہ بھی جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیاواقعی سفارت کاری اس آگ کوبجھا سکتی ہے یادنیاایک طویل اورتباہ کن تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ایران پرامریکااوراسرائیل کے حملوں کے بعدمشرق وسطی میں شروع ہونے والی جنگ کوایک ماہ سے زیادہ ہوگیاہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ترکی مصراورسعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئیکام کرنے والے ممالک میں نمایاں طورپرسامنے ایاہے،پاکستان کے وزیرخارجہ نیکہاہے کہ ایران اورامریکا دونوں نے سہولت کارکے طور پر پاکستان پراعتمادکااظہارکیاہے۔ٹرمپ نے کئی بارپاکستان کے مثبت کردارکے بارے میں بات کی ہے۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت نے اس تنازع کوایک نئے سفارتی موڑپرلاکھڑاکیاہے۔ٹرمپ نے اعلان کیاہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اورآرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیرکی درخواست پرایران کے خلاف طے شدہ فوجی حملے کودو ہفتوں کیلئے مؤخرکرنے پرآمادہ ہیں،بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمزکوفوری،مکمل اورمحفوظ اندازمیں کھول دے ۔اس کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے یہ تصدیق بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پرمذاکراتی عمل اسلام آبادمیں جمعے سے شروع ہوگا۔یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کواجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہرکرتی ہے کہ جنگ کے عین بیچ میں بھی مذاکرات کی کھڑکی مکمل طورپربندنہیں ہوئی۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس جنگ کا اطلاق لبنان تک نہیں پھیلایاجائے گا،جواس خطے میں ممکنہ پھیلاکومحدودکرنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
حال ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کی نئی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کررہا ہے جن سے ایران میں امریکا ہکی فوجی کاروائی ختم ہوسکتی ہے لیکن ساتھ ہی اسی شدت سے ایران پرحملے اوردہمکیاں بھی جاری ہیں۔دوسری طرف ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ جنگ ختم کرنے کیلئے امریکا کی طرف سے بھیجے گئے نکات اور شرائط ضرورت سے زیادہ  غیرمعقول ہیں۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کئی بارکہہ چکے ہیں کہ امریکاکے ساتھ کوئی بھی براہ راست مذاکرات نہیں کررہا۔
اس پس منظرمیں اج ایران اورامریکی جنگ میں بطورسہولت کارپاکستان کے کردارکوسمجھنے کی کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ دو سوالوں کاجواب دینے کی کوشش بھی کریں گے کہ امریکااورایران کے درمیان ثالث کیس کردارسے پاکستان کو کیافائدہ ہوسکتاہے،اورامریکاایک ہی وقت میں ایک طرف فوجی جارحیت اوردوسری طرف سفارت کاری کی پالیسی سے کیا حاصل کرناچاہتاہے۔
اس جنگ سے امریکاحاصل کیاکرناچاہتاہے؟یہ ایک ایساسوال ہے جس کاجواب ایک ماہ بعدبھی واضح نہیں اوراس کی ایک وجہ شایدخودٹرمپ کے مختلف بیانات بھی ہیں۔وہ کبھی ایران کوتباہ کرنے،ایران کے خارج جزیرے پر وجود تیل پرکنٹرول حاصل کرنے،پانی اوربجلی کے انفراسٹرکچرکوتباہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں توکبھی ایران کی نئی قیادت کی تعریف بھی کرتے نظرآتے ہیں۔ایک طرف مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمزکو ٹینکرزکیلئے کھول دے تودوسری طرف دیگرممالک سے کہتے ہیں کہ وہ خودجاکرآبنائے ہرمزکاکنٹرول سنبھالیں اوراسے استعمال کریں۔ایران سے مذاکرات کی باتیں بھی کرتے ہیں اورایران کوبمباری کرکے پتھر کے دورمیں پہنچانے کی بھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل ایران کی طرف امریکاکی کیرٹ اینڈسٹک پالیسی کاحصہ ہے یعنی ایک طرف آپ سامنے والے کولبھانے کیلئے کچھ پیشکش کریں،ایک کیرٹ یاگاجراوردوسری طرف اسے ڈرانے کیلئے کچھ دکھائیں،سٹک یعنی چھڑی۔اس وقت گاجرمذاکرات کی پیشکش،ایران کے بجلی اور یل کی تنصیبات پر حملہ نہ کرنا ہے تو چھڑی مکمل تباہی کی دھمکی ہے۔ 
ٹرمپ کے اس طرح کے بیانات سے اب عالمی طورپراعتباراٹھ گیاہے۔جوابھی تک کی صورتحال ہے اس میں ایران کاجورد عمل بڑامضبوط،دانشمندانہ ہے،بڑی حکمت عملی کے تحت ایرانی اپنے قدم بڑھارہے ہیں۔ان کے درمیان جوپیغام رسانی ہے ،اس کے مطابق پانچویں ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں امریکا کیلئے مشکلات اورمسائل بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ امریکی مقاصد کودیکھاجائے تو اس وقت صورتحال اتنی پیچیدہ نظراتی ہے،کوئی نہیں جانتاکہ امریکا کے مقاصدکیاہیں؟یہ بھی واضح نہیں، کیا وہ اس وقت جنگ کوبندکرناچاہتاہے،وہ آبنائے ہرمزکوکھولناچاہتاہے،وہ ایران کو غیرمسلح کرناچاہتاہے،دنیاجانناچاہتی ہے کہ آخرامریکاچاہتاکیاہے؟؟؟
جس وقت جب یہ تنازع شروع ہواتواس وقت سامنے تین مقاصدتھے:ایک تویہ تھاکہ موجودہ ایرانی ریجیم چینج کی جائے اور وہاں ایک ایسی حکومت لائی جائے جوان کے مقاصد کے عین مطابق ہوجیساکہ وینزویلامیں انہوں نے کیا۔دوسرایہ تھاکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کوختم کیاجائے یااس سطح پرلایاجائے کہ وہ اسے جنگی مقاصدکیلئے استعمال نہ کرسکیں۔ اور تیسرایہ تھا کہ ان کاجوملٹری انفراسٹرکچرہے اس کواتنامحدودکردیاجائے کہ وہ علاقے کیلئے خطرہ نہ بن سکے۔اس میں بہت زیادہ طاقت نہ رہے۔
لیکن جیسے جیسے یہ سلسلہ اگے بڑھتاگیا،اہستہ اہستہ یہ چیزیں نظرآنا شروع ہوئی،ایران کی طرف سے جتنی مزاحمت ہوئی اورابھی تک ہورہی ہے توان مقاصدکے اندرانہوں نے بڑے ایک سٹریٹیجک طریقے سے وہ امریکاکے مقاصدکوکاؤنٹرکرنا شروع کیا۔جس میں سب سے پہلے تواس تنازعہ کوریجن کے اندراس خوف کے ساتھ پھیلایاگیاکہ اگرآپ کی زمین ،ایئرسپیس یا اپ کے کوئی بھی وسائل ایران کے خلاف استعمال ہوئے توآپ کے اوپراسی شدت سے حملہ ہوگا،دوسرااس تنازعہ کوریجن سے باہر نکال کرگلوبل لیول پرلے آئیں ،جس میں آبنائے ہرمزکاپوراکنٹرول ایران کے حق میں چلاجائے۔اب تک ایران اپنے ان دونوں مقاصدکوحاصل کرچکاہے اورساری دنیاپراس جنگ کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں اور’’گلوبل سپلائر چین‘‘شدیدمتاثرہورہی ہے۔۔
یہاں پھرایک سوال ذہن میں ابھرتاہے کہ اس سب میں پاکستان کہاں فٹ ہوتاہے؟پاکستان نے ایک طرح سے جنگ کے پہلے دن سے اپنی پوزیشن واضح رکھی ،مشکل لیکن واضح ،ایران کادوست،امریکاکااتحادی اوران تمام ممالک کابھی دوست جوایران کے جوابی حملوں کی زدمیں آئے ہیں۔ظاہرہے اس پوزیشن کوبرقراررکھناآسان نہیں ہے لیکن فی الحال ایسالگتاہے کہ پاکستان اس مشکل راستے کوکافی کامیابی سے نمٹارہاہے۔(جاری ہے)