محمد ندیم بھٹی
زمانہ بدل رھا ھے، اندازِ زندگی، ترجیحات اور تفریح کے ذرائع بھی نئی شکل اختیار کرتے جا رھے ھیں۔ ایک وقت تھا کہ جوا ایک بدنام زمانہ جرم تصور کیا جاتا تھا۔ لوگ اس لفظ سے بھی نفرت کرتے تھے، مگر آج یہی "جوا" بہت سے طبقات میں نہ صرف قابلِ قبول بلکہ فیشن بنتا جا رھا ھے۔ اسے سٹہ، بیٹنگ، یا آن لائن گیمنگ جیسے نرم لفظوں میں لپیٹ کر پیش کیا جا رھا ھے، اور یوں جوا کسی کا نام ھوا۔
پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ھے جہاں اخلاقیات اور جرم کے درمیان کی لکیر دھندلا چکی ھے۔ بڑے شہروں میں جوا بازی کے اڈے اب خفیہ نہیں رھے، بلکہ کھلے عام، مختلف پوش علاقوں میں، سیاسی سرپرستی میں یا پولیس کی خاموشی کے سائے تلے چل رھے ھیں۔ آن لائن بیٹنگ ایپس جیسے Bet 365، 1XBet، Dream11 اور دیگر کے ذریعے نوجوان نسل روز راتوں رات امیر بننے کے خواب میں اپنا سب کچھ دائو پر لگا رھی ھے۔
یہ کھیل اب کرکٹ سے آگے نکل چکا ھے۔ اب تو سیاست، شوبز، الیکشن، یہاں تک کہ افسوسناک طور پر انسانی جانوں تک پر سٹہ کھیلا جا رھا ھے۔ ٹی وی پر کسی سیاسی جلسے کی جھلک آئے، تو بیٹنگ شروع؛ کسی فلم کا ٹریلر آئے، تو اس کی کامیابی پر جوا؛ کسی کھلاڑی کے زخمی ھونے کی خبر ھو، تو اس پر سٹہ۔ یوں جوا صرف کھیل نہیں رہا، بلکہ ایک ذہنی بیماری، ایک لت، اور ایک مکمل طرزِ زندگی بن چکا ھے۔
حیرت انگیز بات یہ ھے کہ اب اس گناہ کو "سرگرمی" یا "انٹرٹینمنٹ" کا نام دیا جا رھا ھے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ھیں۔ کوئی تو ھو جو ان نوجوانوں سے پوچھے کہ تم نے کس مقام پر اپنے ضمیر کا سودا کیا؟ کس موڑ پر حق و باطل کی تمیز کھو بیٹھے؟
ان مایوس کن حالات میں کچھ فرض شناس پولیس افسران اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے بھی ھیں جو اس ناسور کے خلاف سرگرم نظر آتے ھیں۔ حالیہ دنوں ایک قابلِ ستائش کارروائی ایس پی اقبال ٹاؤن ڈویڑن ڈاکٹر محمد عمر کی زیرنگرانی عمل میں آئی، جس میں ایس ایچ او مسلم ٹاؤن عاطف اقبال اور ان کی ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ھوئے منظم قمار بازی کے گروہ کو مسلم ٹاون ایوبیہ مارکیٹ کی ایک کوٹھی سے گرفتار کیا۔ پولیس نے خفیہ اطلاع اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ایک ھفتہ مکمل تحقیقات کرنے کے بعد 9 جواریوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا جو شراب نوشی کے ساتھ تاش کھیل رھے تھے۔ ملزمان کے قبضے سے 2 لاکھ روپے نقدی، 52 پتے تاش، شراب کی بوتلیں اور غیر ملکی کرنسی اقر نشہ آور اشیاء برآمد ھوئی۔
اس کاروائی پر ڈاکٹر عمر نے عزم کا اظہار کیا کہ قمار بازوں کے خلاف پوری ڈویڑن میں امتیاز ی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ یہ بات یقیناً حوصلہ افزا ھے کہ ایسے افسران موجود ھیں جو صرف وردی ہی نہیں بلکہ کردار اور ایمان داری سے بھی لیس ھیں۔
میرے مطابق مگر افسوس کا پہلو یہ ھے کہ لاھور میں ایسے اقدامات صرف چند علاقوں تک محدود ھیں۔ آن لائن سٹہ، موبائل ایپس کے ذریعے قمار بازی، اور انڈرگراؤنڈ نیٹ ورکس کی جڑیں اتنی مضبوط ھو چکی ھیں کہ ایک یا دو چھاپوں سے یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ اس کے لیے ہمیں بحیثیتِ قوم سنجیدہ اور جامع حکمتِ عملی اپنانا ھو گی۔
اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں طلباء کو اس خطرناک کھیل کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ والدین کو آگہی دی جائے کہ وہ اپنے بچوں کے موبائل فونز، ایپس اور رات گئے سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ میڈیا کو سنسنی پھیلانے کے بجائے اصلاحی مہم کا حصہ بننا چاہیے۔ علماء کرام کو اپنے خطبات میں اس لعنت پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔
یہ بھی ضروری ھے کہ وفاقی سطح پر تمام بیٹنگ اور قمار بازی کی ایپس پر پابندی عائد کی جائے۔ سوشل میڈیا پر ایسے تمام گروپس جو سٹہ یا جوا بازی کو فروغ دے رھے ھیں، انہیں رپورٹ کر کے بند کیا جائے۔ FIA، PTA اور پولیس کے درمیان ایک مرکزی رابطہ سیل قائم کیا جائے تاکہ ملک بھر میں اس نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔
میری تحقیق کے مطابق جوا ایک فرد کا مسئلہ نہیں، یہ پورے خاندان، محلے، حتیٰ کہ پوری قوم کی تباھی کا سبب بن سکتا ھے۔ جب کوئی باپ جوئے میں تنخواہ ہار دیتا ھے، تو اْس کے بچے فاقوں پر آ جاتے ھیں؛ جب کوئی نوجوان سٹے میں قرض میں ڈوب جاتا ھے، تو اْس کی خودکشی معاشرتی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ بنتی ھے اور جب قوم کے لیڈر، دانشور اور استاد خاموش ھو جائیں، تو معاشرہ تباہی کی دہلیز پر جا پہنچتا ھے۔
اسلام بھی اس فعل کو سراسر حرام قرار دیتا ھے۔ قرآن مجید میں سورۃ المائدہ کی آیت 90 میں صاف حکم موجود ھے کہ جوا اور شراب شیطانی کام ھیں، ان سے بچو تاکہ فلاح پاؤ۔ سوال یہ ھے کہ ہم فلاح چاہتے بھی ھیں یا صرف وقتی لذت اور حرص کی غلامی میں مبتلا رہنا چاہتے ھیں؟
آج اگر ہم نے اجتماعی طور پر جوا، سٹہ اور قمار بازی کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو کل یہ لعنت ہمارے بچوں، بھائیوں، اور گھروں کو چاٹ جائے گی۔ اور وہ دن دور نہیں ہو گا جب جوا کسی کا نام نہیں، بلکہ ہر گھر کی پہچان بن جائے گا۔
اب وقت آ گیا ھے کہ ہم اپنے ضمیر کو جگائیں، اور ہر اس آواز کا ساتھ دیں جو معاشرے میں سچ، اصلاح اور عدل کے لیے بلند ھو۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص ڈاکٹر محمد عمر جیسے افسران کا ساتھ دینا ہمارا اخلاقی فرض ھے۔ یہی وہ شعور، یہی وہ اجتماعی بیداری ھے جس سے ہم ایک محفوظ، باوقار اور ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔