ندیم ملک
عرصہء پندرہ سال سے خصوصی طور پر پاکستان اور ،انڈیا، سے نوجوان دوسرے ممالک میں ہجرت کر رہے ہیں اس ہجرت کی وجہِ عناد کیا ہے کبھی کسی نے اس پر تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی پاکستان میں اسمگلنگ کا مکرو دھندا عرصہ دراز سے چل رہا ہے جو معصوم شہریوں کو بیرون ممالک میں سنہرے خواب دکھا کر ان سے لاکھوں روپے لیکر یورپ سمیت دیگر ممالک میں غیر قانونی طور پر خطرناک راستوں کی ذریعے بھیجتے ہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں اسمگلرز عالمی اسمگلرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ماضی بعید میں انسانی اسمگلرز پاکستان سے منسلک ایران کی سرحد سے براستہ روڈ ترکی یا پھر کشتی کی ذریعے انھیں یونان پہنچاتے ہیں ایران سے ترکی کا سفر انتہائی خطرناک ہوتا ہے میرے خالہ زاد بھائی بھی دوہزار انیس میں ڈنکی لگا کر یونان گئے ان سے اس دردناک سفر کے بارے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ راستے اس قدر خطرناک اور پراسرار ہیں جہاں ایسے موڑ آتے ہیں جہاں انسانوں کے جسم پامال پڑے ہوتے ہیں جنھیں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں انسانی اسمگلرز گھر والوں کو دیر تک یہی بتاتے رہتے ہیں کہ آپ کا فرزند بخیریت سفر کر رہا ہے لیکن بات کروانے سے لے کر کھانے پینے تک کی اشیاء پیسے ملنے کے بعد فراہم کی جاتی ہیں جس جگہ ٹھہرایا جاتا ہے وہاں مزید پیسوں کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے پیسے نہ ملنے پر تشدد کیا جاتا ہے سفر کے دوران جس گاڑی میں بمشکل چھ افراد کی جگہ ہوتی ہیں اس میں بیس پچیس لوگ زبردستی ڈالے جاتے ہیں رہائش کے لیے چھوٹا سا کمرہ ہوتا ہے جس میں پچاس افراد کو رکھا جاتا ہے جو رات چین سے سو نہیں سکتے سونا تو دور بیٹھ کر رات گزارنا محال ہوتا ہے رات بیٹھ کر دن کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے
بقول ضمیر قیس
سوگ اتنا نہ کیا کر کہ گنوا بیٹھے حواس
فائدہ لوگ اٹھا لیتے ہیں بے ہوشی سے
بیشتر افراد کی موت اس خطرناک سفر کے دوران ہوجاتی ہے جنھیں سنسنان جگہ پر پھینک دیا جاتا ہے ان کا رویہ اس قدر وحشت ناک ہوتا ہے کہ سن کر روح کانپ اٹھے یہ وہ مکرہ دھندہ ہے جس میں انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے گزشتہ دنوں یونان میں کشتیوں میں سواروں کو یورپ تک لے جایا جا رہا تھا جس میں کشتیوں کو حادثہ پیش آیا اور کئی افراد جان کی بازی ہار گئے ایک رپورٹ کے مطابق یونان میں 3 مختلف کشتی حادثوں میں 35 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں سرکاری ذرائع کے مطابق لیبیا میں ابھی بھی کم و بیش 5000 پاکستان موجود ہیں جو یورپ جانے کے خواہشمند ہیں
2012 کے بعد یہ سلسلہ اس قدر دراز ہوا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی ملک ہیں جو ہر سال اسلحہ کی خریدوفروخت میں بیشمار پیسہ خرچ کرتے ہیں لیکن پڑھے لکھے نوجوانوں کا مستقبل اس کی زد میں متاثر ہوتا ہے اور ہوتا آ رہا ہے اس پر کسی حکومت نے نظرِ کرم نہیں کی پاکستان میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ریڑیاں لگا کر گھر کے اخراجات پورے کر رہے ہیں نوکریاں سال میں بمشکل نکلتی ہیں ان میں 85فیصد رشوت اور سفارشوں کی نذر ہوجاتی ہیں ایم پی اے،ایم این ایز اپنے مفاد کی خاطر اپنے پسندیدہ لوگوں کو منتخب کرتے ہیں اور اور حقدار سے حق چھیننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے
بقول رفیق سندیلوی
آتی ہیں بہت رات کو رونے کی صدائیں
ہمسائے کا احوال کبھی پوچھ لیا کر
وہ قحطِ ضیا ہے کہ مرے شہر کے کچھ لوگ
جگنو کو لیے پھرتے ہیں مٹھی میں چھپا کر
پچھلے دنوں ایک واقعہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں اٹھارہ سال کا نوجوان موبائل کی دنیا میں مگن تنِ تنہا موبائل کا بے دریغ استعمال کر رہا تھا اس کے پاس موبائل اور موبائل میں غالباً پندرہ ہزار روپے تھے جو اس نے جیز کیش سے لون لیا تھا نوجوان اس قدر قرض میں ڈوبا ہوا تھا کہ جہاں کام کرتا تھا وہاں سے پیسے لے کر بھاگ آیا وجہ عناد پوچھنے پر اس نے بتایا کہ مالک مجھ سے دس گھنٹے کی بجائے پندرہ گھنٹے ڈیوٹی لیتا ہے تھکاوٹ کی وجہ سے بدن ٹوٹتا تھا درد کی وجہ سے نیند نہیں آتی اس لیے کام سے بھاگ اور موبائل کو بغور دیکھنے سے پتہ چلا وہ موبائل میں جوا کھیل رہا ہے موبائل کی جانچ پڑتال کی تو اس میں teenpati, betpro, B9game موجود تھی جس پر وہ اطمینان کے ساتھ جوا کھیل رہا تھا پہلے نوجوانوں کے مستقبل کو ٹک ٹاک نے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اوپر سے یہ ایپس آگئے جس میں کوئی کب چاہیے جہاں چاہیے جس وقت چاہے جوا کھیل سکتا ہے حکومت پاکستان کو ان ایپس پر پابندی عائد کرنی چاہیے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ رہے
بقول رفیق سندیلوی
یہ میری تہذیب تھی کہ وحشت کے دور میں بھی
لباس کو تار تار میں نے نہیں کیا ہے
تہذیب سے اپنا ایک شعر یاد آگیا
ہم کو تہذیب سکھاتی ہے محبت کرنا
اور دنیا ہمیں نفرت پہ لگا دیتی ہے