شہزاد راجپوت
عالمی سیاست کے پیچیدہ، پرآشوب اور نازک دھاروں میں وہی ممالک اپنی جگہ مستحکم اور دیرپا بنا پاتے ہیں جو نہ صرف عسکری قوت رکھتے ہوں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری، بصیرت افروز قیادت اور اعتدال پسند پالیسیوں کے حامل بھی ہوں۔ پاکستان جو ماضی میں اپنی ایٹمی صلاحیت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا، آج ایک نئے مثبت اور تعمیری کردار کے ساتھ ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ایک ذمہ دار ریاست اور عالمی ثالث کے طور پر۔یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا محض دفاعی ضرورت کا تقاضا نہیں تھا بلکہ یہ قومی خودمختاری، سلامتی اور وقار کا ایک مضبوط استعارہ تھا۔ اس کامیابی نے پاکستان کو نہ صرف خطے میں توازنِ قوت برقرار رکھنے کے قابل بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے ایک سنجیدہ، باوقار اور خودمختار قوت کے طور پر تسلیم کروایا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت مزید واضح ہوتی گئی کہ حقیقی طاقت صرف ہتھیاروں، میزائلوں اور ایٹمی صلاحیت میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے، تنازعات کو سلجھانے اور دلوں کو جوڑنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔آج کی دنیا، جو بے یقینی، کشیدگی، جغرافیائی سیاست کی کھینچا تانی اور مسلسل تنازعات کا شکار ہے وہاں پاکستان کا کردار ایک پل باندھنے والے، مفاہمت پیدا کرنے والے اور اعتماد سازی کے علمبردار ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں، جہاں ایران اور عالمی سپر پاورز کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ پاکستان نے اپنی متوازن، بردبار اور مدبرانہ سفارت کاری کے ذریعے نہایت اہم اور تاریخی کردار ادا کیا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ اعتدال، توازن، باہمی احترام اور امن پسندی پر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان تناؤ خطرناک حدوں کو چھونے لگا تو پاکستان نے نہ صرف فریقین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو متوازن رکھا بلکہ خاموش اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے نہایت حکمت کے ساتھ یہ پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے جبکہ مکالمہ اور ثالثی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔یہ امر بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کو یہ مقام کسی ایک دن میں حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ اس کی دہائیوں پر محیط سفارتی جدوجہد، قربانیوں اور عالمی برادری میں اعتماد سازی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر نہ صرف اپنے اندر امن قائم کیا بلکہ دنیا کو بھی یہ باور کروایا کہ وہ امن کا خواہاں اور ذمہ دار ریاست ہے۔ یہی اعتماد آج اسے ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے۔ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش، بیک ڈور ڈپلومیسی اور کشیدگی میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اب صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ پاکستان نے نہایت دانشمندی کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ وہ نہ تو کسی بلاک سیاست کا حصہ ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے زیرِ اثر، بلکہ وہ ایک خودمختار اور اصولی مؤقف رکھنے والا ملک ہے۔ جو صرف امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔پاکستان کی قیادت نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، ثالثی اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے۔ چاہے وہ افغانستان کا معاملہ ہو، خلیجی کشیدگی ہو یا دیگر علاقائی تنازعات۔پاکستان نے ہر موقع پر امن کے قیام کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔یہ کہنا بھی بجا ہوگا کہ پاکستان کی یہ نئی شناخت نہ صرف اس کے عالمی وقار میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اس کے لیے اقتصادی، تجارتی اور سفارتی مواقع کے نئے در بھی کھول رہی ہے۔ دنیا اب پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے جو بحرانوں کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، نہ کہ ان میں اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہی تاثر مستقبل میں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور عالمی شراکت داری کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔مزید برآں، پاکستان کی نوجوان آبادی، اس کی جغرافیائی اہمیت، اور اس کی متحرک سفارت کاری اسے مستقبل میں ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستان اسی تدبر، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب وہ عالمی سطح پر ایک کلیدی ثالث اور امن کے ضامن کے طور پر پہچانا جائے گا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کی ایٹمی صلاحیت نہیں بلکہ اس کی امن پسندی، تدبر، سفارتی مہارت اور ثالثی کی غیرمعمولی صلاحیت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کی روش پر گامزن ہے۔ پاکستان کا مکالمہ، مفاہمت اور ثالثی کا راستہ اختیار کرنا نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ایک روشن مثال بھی ہے۔پاکستان آج ایک نئے سفر پر گامزن ہے۔’’ایٹمی قوت سے عالمی ثالث تک کا سفر‘‘اور یہ سفر نہ صرف اس کے روشن مستقبل کی نوید ہے بلکہ عالمی امن کے قیام کی پر امید کرن بھی ہے۔