بھارت میں نامزد امریکی سفیر نے کہا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور امید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں یہ معاملہ طے پا جائے گا۔
سینیٹ میں توثیقی سماعت کے دوران امریکی سفیر نے بتایا کہ بھارتی وزیرِ تجارت و معیشت آئندہ ہفتے امریکا کا دورہ کریں گے جہاں واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گہری دوستی ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے منفرد اہمیت رکھتی ہے۔سفیر نے مزید کہا کہ امریکا افریقا، مشرق وسطیٰ، یوکرین اور جنوب مشرقی ایشیا کے تنازعات حل کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے اور اب بھارت کو اپنی قریبی صف میں شامل کرنا اولین ترجیح ہے۔تجارتی بات چیت کے حوالے سے امریکی حکام کے مطابق بھارتی منڈیوں کو امریکی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کے لیے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ بھارت اور دیگر ممالک کو روسی تیل کی خریداری بند کرنی ہوگی۔
امریکی سفیر نے بتایا کہ سینیٹر گراہم کی قانون سازی میں روسی تیل کی ثانوی خرید و فروخت پر 500 فیصد ٹیرف کی تجویز دی گئی ہے جبکہ صدر نے فی الحال 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات تب ہی مؤثر ہوں گے جب یورپی اور عالمی شراکت دار بھی شامل ہوں، بصورت دیگر روسی تیل چین، بھارت یا برازیل کے ذریعے دوبارہ فروخت ہوتا رہے گا، جسے روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔