ویب ڈیسک: پاک فوج کے کامیاب آپریشن کے دوران ہتھیار ڈالنے والے خارجی عبدالصمد کے اعترافی بیان میں فتنۂ الخوارج کے سرگرمیوں اور نیٹ ورک کے بارے میں سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔
عبدالصمد نے کہا کہ وہ تقریباً ساڑھے چار سال افغانستان میں رہا جہاں اس نے کلاشنکوف چلانے کی تربیت حاصل کی۔ اس نے منظر ہیل، زنگوٹی خرسین اور دیگر مقامات پر مختلف کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں اور کئی گروپوں کے ساتھ وقت گزارا۔ زنگوٹی کی مینار والی مسجد کو ان گروہوں کا مرکز بتایا گیا جہاں آئی ڈییز (بارودی مواد)، مائنز اور ڈرون بم بنانے کی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ عبدالصمد نے دعویٰ کیا کہ مسجد میں تشدد آمیز اور غیر اخلاقی مواد چلایا جاتا تھا اور بعض کمانڈرز بچوں کو غلط کاموں میں استعمال کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ کمانڈر اسد ملا جیسی قیادت فوج کو مرتد قرار دیتی اور جنگی سازوسامان تیار کرواتی تھی، اور جب عبدالصمد نے ان اعمال کو دیکھا تو انہیں ان لوگوں کے رویے نے سخت صدمہ پہنچایا۔ عبدالصمد نے مزید کہا کہ جب اس نے گروپ چھوڑنے کا ارادہ کیا تو فوج نے چھاپہ مارا اور شدت پسند وہاں سے فرار ہوگئے؛ ان کے مطابق فرار سے قبل قیادت نے موبائل فون اور شناختی کارڈ جمع کروائے اور موبائل فارمیٹ کروا دیے گئے۔
اعترافی بیان میں زنگوٹی، دین اکبر، مرزا خان اور لاود خیل جیسی مساجد کو اس گروہ کے فعال مرکز کے طور پر نشان زد کیا گیا — ہر ایسی مسجد میں متعدد ارکان موجود تھے جو ان گروہوں کے کمانڈرز کے ماتحت کام کرتے تھے۔ عبدالصمد نے کہا کہ اس نے طالبان کے ساتھ پانچ سال گزارے مگر فوج کے ساتھ صرف چند دن گزارنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ فوج درست ہے اور شدت پسند گروہ غلط راستے پر ہیں۔ ان کا عوام کے نام پیغام تھا کہ اپنے بچوں کو ان عناصر سے دور رکھیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔پاک فوج کے آپریشن میں ہتھیار ڈالنے والے اس خارجی کے اعترافات کو اہلِ ملک و قوم کے لیے فتنۂ الخوارج کے مکروہ اور تباہ کن چہرے کی واضح نشاندہی قرار دیا جا رہا ہے، اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف مزید کارروائی کے عندیے دیے جا چکے ہیں۔