روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے، تہلکہ خیز انکشاف

روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے، تہلکہ خیز انکشاف

برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ روس نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے سن 2018 میں ایران کو خفیہ طور پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر نقد رقم منتقل کی۔

 رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اُس وقت کیا گیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت معاشی پابندیاں نافذ کی تھیں۔ٹیلیگراف کے مطابق یہ بھاری رقم روس کے سرکاری بینک پرومسویاز بینک کے ذریعے 34 بڑی ترسیلات میں تہران کے مرکزی بینک تک پہنچائی گئی۔ ان نقد رقوم کا مجموعی وزن تقریباً پانچ ٹن بتایا گیا ہے۔ ہر ترسیل کی مالیت 57 ملین سے 115 ملین ڈالر کے درمیان تھی، جبکہ زیادہ تر نوٹ یورپی کرنسی کے بڑے مالیت والے بلوں پر مشتمل تھے تاکہ منتقلی نسبتاً آسان بنائی جا سکے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرومسویاز بینک کو 2017 میں روسی حکومت نے اپنی تحویل میں لیا تھا، تاکہ دفاعی شعبے کی مالی معاونت اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے اسے ایک محفوظ چینل کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ بعد ازاں اس بینک کے سابق سربراہ پر امریکا اور برطانیہ کی جانب سے پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

ماہرین اور سابق امریکی حکام کے مطابق یہ خفیہ ادائیگیاں روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اور عسکری تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ رقوم ممکنہ طور پر اسلحہ، فوجی سازوسامان یا دفاعی تعاون کے بدلے میں دی گئیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران یوکرین جنگ کے دوران روس کو ڈرون اور میزائل فراہم کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ نقد رقم کے ذریعے لین دین کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اسی لیے روس مستقبل میں بھی پابندیوں سے بچنے کے لیے اسی حکمتِ عملی کو جاری رکھ سکتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی خفیہ مالی سرگرمیاں عالمی پابندیوں کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں اور ان پر مزید کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔