برازیل کی سپریم کورٹ نے سابق صدر جائر بولسونارو کو بغاوت کی سازش کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 27 سال اور 3 ماہ قید کی سزا سنادی ہے۔
عدالت کے پانچ رکنی بینچ میں سے چار ججز نے سزا کے حق میں فیصلہ دیا، جبکہ ایک جج نے انہیں تمام الزامات سے بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔گھر میں نظر بند سابق صدر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، اور ان کے وکیل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سماعت کے لیے 11 ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔بولسونارو کو اکتوبر 2022 کے انتخابات میں بائیں بازو کے رہنما اور موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے شکست دی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بولسونارو کی سزا کو مایوس کن قرار دیا اور اسے غیرمتوقع قرار دیا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اس فیصلے کا اپنے طریقے سے جواب دے گا اور اسے سیاسی طور پر متحرک "وِچ ہنٹ" قرار دیا۔ اس کے جواب میں برازیل کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرے گی۔
عدالتی فیصلے کے بعد برازیل کے متعدد شہروں میں سابق صدر بولسونارو کے حق میں مظاہرے بھی شروع ہوگئے۔ یاد رہے کہ بولسونارو پر 2022 کے انتخابات کے بعد اقتدار پر قبضے کی کوشش کا الزام تھا۔