برازیل میں لولا ڈی سلوا چوتھی بار صدر منتخب، بولسونارو کو شکست

برازیل میں لولا ڈی سلوا چوتھی بار صدر منتخب، بولسونارو کو شکست

برازیلیا: برازیل میں بائیں بازو کے رہنما لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کردی۔

 انہوں نے دائیں بازو کے امیدوار اور سابق صدر جیر بولسونارو کو شکست دے کر چوتھی مرتبہ صدارتی منصب حاصل کرلیا۔انتخابی نتائج کے مطابق لولا ڈی سلوا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف جیر بولسونارو کو 48.25 فیصد ووٹ ملے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر لولا ڈی سلوا کامیاب قرار پائے۔

ووٹنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھا دیا گیا
انتخابات کے روز ووٹنگ کے عمل میں ایک غیر معمولی پیش رفت بھی سامنے آئی، جب برازیل کی سپریم کورٹ نے شہریوں کو سفری اور ٹرانسپورٹ مشکلات کے باعث ووٹ ڈالنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پولنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھانے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی۔انتخابی عمل کے دوران ووٹرز کی شرکت اور دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے نے انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دے دی۔ حتمی نتائج نے برازیل کی آئندہ سیاسی سمت کے حوالے سے بھی توجہ حاصل کی۔

لولا ڈی سلوا کی سیاسی تاریخ
لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا اس سے قبل 2003 سے 2011 تک دو مرتبہ برازیل کے صدر رہ چکے ہیں۔ بعد ازاں وہ 2023 میں تیسری مرتبہ اقتدار میں آئے۔ تازہ انتخابی کامیابی کے بعد وہ برازیل کی سیاسی تاریخ میں چار مرتبہ صدارتی منصب حاصل کرنے والے رہنما بن گئے۔لولا ڈی سلوا کا سیاسی سفر مزدور تحریک سے شروع ہوا اور وہ طویل عرصے سے برازیل کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی سیاست میں سماجی بہبود، غربت میں کمی اور معاشی ناہمواری جیسے موضوعات اہم رہے ہیں۔

بولسونارو کو سخت انتخابی مقابلے کا سامنا
دوسری جانب جیر بولسونارو دائیں بازو کے نمایاں رہنما ہیں، جنہوں نے اپنی صدارت کے دوران مختلف سیاسی اور معاشرتی معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ انتخابات میں ان کی جماعت اور حامیوں نے بھی بھرپور مہم چلائی، تاہم وہ مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔