اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی گئی۔ قرارداد سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جمع کرائی، جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئینی تقاضوں سے متصادم ہے، جبکہ اس اقدام سے متعلق آئینی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
قرارداد میں صوبائی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات اور اس سے متعلق تمام ریکارڈ پارلیمنٹ میں پیش کرے۔متن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرنے کے آئینی تقاضوں پر سوالات موجود ہیں۔ قرارداد کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت صدر کی جانب سے آئینی اطمینان بھی موجود نہیں تھا۔
قرارداد میں صدر اور وفاقی حکومت سے ایمرجنسی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ ایمرجنسی کے حکم کو فوری طور پر واپس لے کر غیر آئینی قرار دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔مزید برآں قرارداد کی منظوری کے بعد اس کی نقل صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزیر قانون کو بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے۔