"اگر خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہ ہوا تو کیا وفاق صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر سکتا ہے؟"

خیبر پختونخوا حکومت اس وقت شدید آئینی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے، جہاں تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے بغیر صوبائی بجٹ کی منظوری روکی گئی ہے۔

 دریں اثنا، آئینی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر 30 جون تک بجٹ منظور نہ ہوا تو صوبہ معاشی دیوالیہ پن اور وفاقی مداخلت جیسے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

 صورتحال کی تفصیل:
عمران خان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، مشیر خزانہ اور تیمور سلیم جھگڑا کو بجٹ منظوری سے قبل مشاورت کے لیے طلب کیا ہے۔تاہم صوبائی بجٹ کا شیڈول 24 جون کو منظوری کا تقاضا کرتا ہے۔
  آئینی ماہرین کا مؤقف:
آئین کے آرٹیکل 123، 234 اور 235 کے تحت اگر 30 جون تک بجٹ پاس نہ ہو:تو وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی لگا سکتی ہے۔گورنر وزیراعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔یکم جولائی سے تمام سرکاری فنڈز کا اجرا رک جائے گا۔
  سیاسی قیادت کے بیانات:
وزیر قانون آفتاب عالم:
"ہم چاہتے ہیں آئینی بحران نہ ہو، مگر ہمارے قائد (عمران خان) کے حکم کے بغیر بجٹ منظور نہیں کریں گے۔ وفاقی حکومت اس بحران کی ذمہ دار ہوگی۔"
گورنر فیصل کریم کنڈی:
"وزیراعلیٰ پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھیں، چاہے عمران خان سے ملاقات ہو یا نہ ہو، بجٹ کی منظوری بہرحال ضروری ہے۔"
اسمبلی اسپیکر:
"بجٹ منظوری عمران خان کی مشاورت سے مشروط ہے۔"
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے احمد کنڈی:
"اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو صوبہ معاشی بحران کا شکار ہو جائے گا، آئینی حل موجود ہے۔"
  اسمبلی میں پیشرفت:
اسمبلی نے مطالبات زر کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔مطالبات زر کی منظوری آج سے شروع ہوگی، مگر ارکان کو ووٹنگ سے روک دیا گیا ہے۔فنانس بل 24 جون کو پیش کیا جائے گا۔
  پس منظر اور ممکنہ حل:
موجودہ اجلاس ارکان کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے، اس لیے امکان ہے کہ بجٹ منظوری 24 جون کے بعد بھی ممکن ہو۔حکومت، اسمبلی سیکریٹریٹ اور محکمہ قانون اس نکتہ پر مشاورت کر رہے ہیں۔
  نتیجہ:
اگر 30 جون تک بجٹ منظور نہیں ہوتا تو:

حکومت کی آئینی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔
وفاق مداخلت کا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔
اور تحریک انصاف کی حکومت کو شدید سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔