اسلام آباد: خودکشی کرنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نعمان نے طالبہ کے ساتھ فراڈ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر جعلی ای میل اکاؤنٹس کے ذریعے رابطے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ویزا دستاویزات تیار کرنے اور لاکھوں روپے کے مالی لین دین کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق، ملزم نعمان کا لائبہ اعجاز سے رابطہ رواں سال فروری میں اس کی دوست عائزہ کے ذریعے ہوا تھا۔ لائبہ نے عائزہ کے ساتھ مل کر آن لائن ٹک شاپ کا کاروبار بھی شروع کیا، تاہم یہ کام کامیاب نہ ہوسکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان کی دوست عائزہ فاطمہ کا ایک بھائی امریکا میں مقیم ہے۔ لائبہ اعجاز نے عائزہ سے امریکا کا ویزا لگوانے میں مدد طلب کی تھی، جس کے بعد معاملہ آگے بڑھا۔
جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رابطے کا انکشاف
تحقیقات سے متعلق ذرائع کے مطابق، ملزم نعمان نے مبینہ طور پر دوسرے موبائل نمبر سے عائزہ بن کر لائبہ سے رابطہ کیا۔ اس کے علاوہ عائزہ کے بھائی اظہر کے نام سے جعلی جی میل اکاؤنٹ بھی بنایا اور دونوں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لائبہ سے رابطے میں رہا۔ذرائع کے مطابق، ملزم نے لائبہ کے اسٹوڈنٹ ویزے سے متعلق دستاویزات مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیں۔ پولیس کو ملزم اور لائبہ کے درمیان ہونے والی چیٹ کا کچھ حصہ بھی حاصل ہوگیا ہے، جبکہ مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ملزم کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
93 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کا معاملہ
دوسری جانب، پولیس نے کیس کی تفتیش آگے بڑھانے کے لیے سیل کی گئی ایف آئی آر بھی کھول دی ہے۔ مقدمہ لائبہ اعجاز کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے بیان میں لائبہ کے والد نے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کی نعمان نامی ایجنٹ سے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملزم نے خود کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ افسر ظاہر کرکے لائبہ کو اسٹڈی ویزے پر امریکا بھجوانے کا جھانسہ دیا۔والد کے مطابق، ملزم نے امریکا بھجوانے کے لیے 93 لاکھ روپے طے کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم کو جی 10 میں 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے، جبکہ 29 لاکھ روپے لائبہ کے بینک اکاؤنٹ سے نعمان کو منتقل کیے گئے۔والد نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزم نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے لائبہ کے اکاؤنٹ میں 20 ہزار امریکی ڈالر منتقل کیے جانے کی جعلی رسیدیں بھی پیش کیں۔
عائزہ کے کردار سے متعلق بھی تحقیقات
لائبہ اعجاز کے والد نے اپنے بیان میں عائزہ نامی لڑکی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق، عائزہ ان کی بیٹی سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کرتی تھی، جبکہ بعد میں ملزم نے ان کے فون کالز کا جواب دینا بھی بند کردیا تھا۔والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی پانچ سے چھ روز تک شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا رہی۔ پولیس اب مبینہ مالی لین دین، جعلی اکاؤنٹس، ویزا دستاویزات اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ معاملے میں ملوث افراد کے کردار کا تعین کیا جاسکے۔