ویب دیسک:بھارتی وکیل فیضان خان نے 7 نومبر کو بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کو قتل کی دھمکی دینے کا اعتراف کیا ہے اور اس کے بعد پولیس نے اس سے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔
پولیس نے فیضان خان کو چھتیس گڑھ سے گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات شروع کیں، اور اس دوران انکشاف ہوا کہ اس نے شاہ رخ خان، ان کے بیٹے آریان خان، اور ان کے خاندان کی سیکیورٹی اور نقل و حرکت سے متعلق حساس معلومات آن لائن سرچ کر کے حاصل کی تھیں۔فیضان خان نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے یہ معلومات جمع کرنے کے لیے بڑی محنت کی تھی، اور پھر قتل کی دھمکی دینے اور 50 لاکھ روپے کا تاوان طلب کرنے سے پہلے ان تفصیلات کا استعمال کیا۔ پولیس کو اس کے دوسرے موبائل فون سے یہ معلومات حاصل ہوئی، جو اس کے جرم کی تصدیق کرتی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فیضان خان تفتیش کے دوران گمراہ کن جوابات دینے اور حقائق چھپانے کی کوشش کرتا رہا، تاہم اس نے کئی اہم معلومات فراہم کی ہیں جو اس کے جرم کو ثابت کرتی ہیں۔ ملزم فیضان خان اس وقت 10 روزہ جوڈیشل حراست میں ہے، اور پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔یاد رہے کہ 7 نومبر کو فیضان خان نے باندرہ پولیس کے لینڈ لائن پر کال کی تھی اور شاہ رخ خان کو قتل کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا اور 12 نومبر کو اسے چھتیس گڑھ سے گرفتار کر لیا تھا۔