امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد مزید سخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران 135 بحری جہازوں کو واپس موڑا گیا، جبکہ چار تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسی عرصے میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 10 آئل ٹینکروں کو تباہ کیا گیا۔سینٹ کام کے مطابق تازہ کارروائی اتوار، 11 اکتوبر کو خلیجِ عمان میں کی گئی، جہاں امریکی لڑاکا طیارے نے پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والے تجارتی جہاز ایم وی اوشن مولیکا، جسے اریکا سن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو نشانہ بنایا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے نے متعدد مرتبہ جاری کی گئی وارننگز کو نظر انداز کیا اور بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔ امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز اس سے قبل ایران کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔
امریکی حملے میں جہاز کا انجن ناکارہ ہونے کا دعویٰ
سینٹ کام کے مطابق امریکی لڑاکا طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر انتہائی درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود استعمال کیا، جس کے نتیجے میں اس کا انجن اور آگے بڑھنے کا نظام ناکارہ ہوگیا۔ امریکی فوج نے بتایا کہ اس کارروائی میں جہاز کے عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے اور مبینہ خلاف ورزیوں کو روکنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔ تاہم جاری کردہ بیان میں ان چاروں تجارتی جہازوں اور 10 آئل ٹینکروں کے بارے میں الگ الگ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جنہیں ناکارہ بنانے یا تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔