ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی جاری رہی تو نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ دیگر اہم آبی گزرگاہوں کی بندش کا بھی خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکی بحری اقدامات اور مسلسل اشتعال انگیزی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور دیگر اسٹریٹجک سمندری راستوں کی مکمل بندش کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق محمد باقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے نتائج امریکی عوام اور ووٹروں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ 14 جولائی کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔نوٹ: مذکورہ بیانات ایرانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ اس حوالے سے امریکی حکام کا ردِعمل اس خبر میں شامل نہیں ہے۔