ریاض پر حوثیوں کا حملہ،12 افراد جاں بحق،309 زخمی سعودی عرب پر حملے بند کیے جائیں:امریکی وزیر خارجہ

 جاں بحق ہونے والوں میں 4 سعودی شہری، 2 بنگلہ دیشی اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک، ایک شہری شامل ،سعودی عرب کے حکام کو خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے
یمن کے حوثی گروپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد مسافروں اور فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی وارننگ دے دی ہے
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر رواں ہفتے ہونے والے تیسرے حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو گئے۔ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، مسافروں کو سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ دے دی۔سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 سعودی شہری، 2 بنگلہ دیشی اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔رائٹرز کے مطابق حملے کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغی رواں ہفتے سعودی عرب پر ہونے والے پہلے 2 حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔سعودی عرب کے حکام کو خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے اندر دھماکے کے بعد متعدد افراد زخمی حالت میں زمین پر پڑے دکھائی دیے جبکہ درجنوں ایمبولینسز زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے پہنچیں۔ایک زخمی مسافر نے بتایا کہ اس نے ایئرپورٹ کے باہر آسمان پر ایک چیز کو تیزی سے گزرتے دیکھا، جس کے بعد روانگی کے ایک دروازے کے قریب چھت کا کچھ حصہ گر گیا۔یمن کے حوثی گروپ نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد مسافروں اور فضائی کمپنیوں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی وارننگ دے دی ہے۔حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج نے فضائی اور بحری کمپنیوں، ماہرین، عملے، کارکنوں اور مسافروں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔یحییٰ سریع کے مطابق سعودی ہوائی اڈے اور فضائی حدود حوثی فورسز کے ممکنہ حملوں کے دائرے میں ہیں اور ان کے بقول یہ علاقے فوجی کارروائیوں کا میدان بن چکے ہیں۔حوثی ترجمان نے اپنے بیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو اس وارننگ سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کرنے پر زور دیا۔یہ دھمکی ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب پر حملے بند کیے جائیں