سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں متعدد توانائی تنصیبات اور مراکز پریمن کی حوثی جماعت انصار اللہ نے حملے کئے‘کئی مقامات پر آگ لگ گئی، بعض آپریشنز روک دئیے گئے
حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا:سعودی اتحادی فورس ‘ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے‘ نئے صوبوں کے بجائے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ہونی چاہیے:خواجہ آصف
ریاض،اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں متعدد توانائی تنصیبات اور مراکز پریمن کی حوثی جماعت انصار اللہ کے حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے جبکہ کئی مقامات پر آگ لگ گئی، بعض آپریشنز عارضی طور پر روک دئیے گئے ہیں۔سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملوں کے بعد متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ متعلقہ ادارے متاثرہ تنصیبات کو محفوظ بنانے، آگ پر قابو پانے اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔سعودی حکام کے مطابق حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔سعودی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔ سعودی حکام نے مزید کہا کہ حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تنصیبات اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں‘سعودی اتحادی فورس کے مطابق سعودی عرب پر انصاراللہ کے حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے حوثیوں نے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے جاری رکھے تو سنگین ہوں گے‘ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز،ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان اوربرادر سعودی عوام کیساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔وزیراعظم کاکہنا تھا کہ ایسیبزدلانہ حملیمعصوم انسانی جانوں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں،سعودی عرب پر حملے خطے کے امن و سلامتی کو مزید خطرے سے دوچار کرتے ہیں‘ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے۔اسلام آباد کو وفاقی علاقہ رکھا جاسکتا ہے اور ممکن ہے مزید ایک دو وفاقی علاقے بھی بنائے جائیں جو براہ راست وفاق کے زیر انتظام ہوں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ملک میں نئے صوبوں کے بجائے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ہونی چاہیے، جبکہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ بحث میں کہیں بھی صوبوں کا لفظ استعمال نہیں ہورہا بلکہ انتظامی یونٹس کی بات کی جارہی ہے، نہیں معلوم کہ صوبوں کا لفظ کہاں سے آیا۔ انہوں نے کہا بعض افراد کو پنجاب میں مزید صوبے بننے پر اعتراض نہیں لیکن اپنے اپنے علاقوں میں صوبے بننے پر اعتراض ہوسکتا ہے