ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں، ایمل ولی خان

حالات کے ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں،، دونوں کا احتساب ہونا چائیے
 صوبائی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے، وزیراعظم ، محسن نقوی کی درخواست پر جواب 
پشاور(آئی این پی )اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی نے کہا ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حالات کو یہاں پہنچانے کے ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں۔ایمل ولی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت گزشتہ ڈھائی سال میں ہر لحاظ سے بدترین طور سے ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کو ایک مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھ کر کرپشن کا ایک بازار گرم رکھا ہوا ہے، یہ حکومت دہشت گردی سے نمٹنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی۔اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم تحریک انصاف اور اس کو لانے والوں، دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے ایمل ولی خان سے خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنرراج کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔ذرائع کے مطابق سینیٹر ایمل ولی خان نے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت سے معذرت کرلی۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سابق وزیراعلی امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی، جواب میں ایمل ولی نے مشورہ دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے۔