اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے، تاہم تمام کوششوں کے باوجود تعاون کے آپشنز ختم ہونے کے بعد آئین کو ترجیح دینا ضروری ہوگیا۔
اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے سیاسی رابطوں، پارلیمانی مشاورت، براہِ راست مذاکرات اور بیک چینل سفارت کاری سمیت مختلف ذرائع سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کے تمام دستیاب راستے آزمائے گئے تاکہ تصادم سے بچتے ہوئے باہمی تعاون کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاسکے۔محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ دہشت گردی کا بھاری بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ کوششیں اہم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے لیے فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا اور اسے محض ایک سیاسی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے بقول زمینی حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئینی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہوگیا۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جب تعاون کے تمام راستے ختم ہوجائیں تو آئین اور قانون کو ترجیح دینا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ریاستی معاملات کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھانا اہم ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، ملک میں امن و استحکام قائم کرے اور پاکستانی قوم کو دائمی امن عطا فرمائے۔
واضح رہے کہ محسن نقوی کے بیان میں مذاکرات کی کوششوں اور آئینی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاہم متعلقہ فیصلے کی نوعیت اور اس کے عملی اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے پر ہی صورتحال کی مکمل وضاحت ہوسکے گی۔