ویب ڈیسک:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ ڈاکٹر ناصر بن عبدالعزیز الداود کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد اور ریاض کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز پیش کی، جس پر سعودی نائب وزیر داخلہ نے اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے باہمی تبادلوں اور مشترکہ ٹریننگ کے معاملات پر بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں پاکستان سے سعودی عرب جانے والے بھکاریوں کے مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن پر بات چیت ہوئی، اور دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ سعودی عرب میں 419 پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے قانونی کارروائی جلد مکمل کر لی جائے گی، اور سعودی عرب میں 4300 بھکاریوں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب جانے والے بھکاریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور اس مافیا کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔سعودی نائب وزیر داخلہ ڈاکٹر ناصر بن عبدالعزیز الداود نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بڑھانا چاہتا ہے، اور پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے باہمی تبادلوں اور مشترکہ ٹریننگ کے لیے تیار ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب 2030 تک معاشی، سماجی، اور اقتصادی شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرے گا۔اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے درمیان مزید تعاون بڑھانے پر زور دیا اور مستقبل میں تعلقات کے فروغ کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔