قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب اس ترمیم کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس ترمیم میں ایک تکنیکی غلطی پائی گئی ہے جس کے سبب اسے دوبارہ سینیٹ میں لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، کل سینیٹ میں اس ترمیم کی دوبارہ منظوری لی جائے گی تاکہ یہ قانونی اور آئینی طور پر درست ہو جائے۔یہ ترمیم پہلے ہی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہو چکی ہے، جہاں دو روز قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس بل کی پیشکش کی۔ اس موقع پر 64 ارکان نے اس کی حمایت میں کھڑے ہو کر حمایت فراہم کی، جن میں پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان بھی شامل تھے۔ تاہم، بعض دیگر ارکان نے اس ترمیم کے خلاف احتجاج کیا اور اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔اب، اگر کل سینیٹ سے یہ ترمیم منظوری پا لیتی ہے اور پھر قومی اسمبلی سے بھی منظور ہو جاتی ہے، تو یہ ترمیم آئینی عمل مکمل کر لے گی۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد، اس کا اطلاق اور نفاذ ممکن ہو جائے گا، جس کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔