پارلیمنٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر اتفاق رائے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسپیکر ایاز صادق کو اہم ذمہ داری سونپ دی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے آج تمام پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جو شام 4 بجے اسپیکر لاؤنج پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔اس اجلاس میں پی ٹی آئی، جے یو آئی ایف، اتحادی جماعتوں کے چیف وہپس اور پارلیمانی لیڈرز کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس کا مقصد آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکمت عملی وضع کرنا ہے، اور شرکاء کو ترمیم کے خدوخال سے آگاہ کیا جائے گا۔ اسپیکر پارلیمانی رہنماؤں سے چیمبر میں بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، اگر اتفاق رائے نہ ہو سکا، تو حکومت اپنی نمبرز گیم پر انحصار کرے گی۔ مسلم لیگ ن نے اپنے اور اتحادی اراکین اسمبلی کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت دی ہے۔
قومی اسمبلی میں ن لیگ کے ارکان کی تعداد 125 ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے 74 ارکان ہیں۔ حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 237 ارکان کی حمایت درکار ہے، جبکہ اس ترمیم کی منظوری کے لیے کم سے کم 224 ووٹ درکار ہیں۔ اس صورتحال میں، حکومت اپنی عددی برتری کا استعمال کرتے ہوئے ترمیم منظور کروانے کی کوشش کرے گی۔