نیتن یاہو کا غزہ پر دستاویزی فلم بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان

نیتن یاہو کا غزہ پر دستاویزی فلم بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق دستاویزی فلم ’NAZA‘ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کو بدنام کرنے والوں کی شہریت منسوخ کرنے اور ہتکِ عزت کے مقدمات میں مالی جرمانے بڑھانے کے لیے دو حکومتی بل لانے کا اعلان کردیا۔

نیتن یاہو نے یہ اعلان ایک ویڈیو بیان میں کیا، جو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’NAZA‘ کی نمائش اور اسے خصوصی جیوری ایوارڈ ملنے کے بعد سامنے آیا۔ فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ افراد کے گمنام انٹرویوز شامل ہیں، جن میں غزہ جنگ کے دوران شہری ہلاکتوں اور فوجی کارروائیوں سے متعلق الزامات بیان کیے گئے ہیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ فلم میں اسرائیلی فوج کے افسران اور اہلکاروں کو جنگی مجرموں کے طور پر پیش کیا گیا، جسے ان کے بقول اسرائیلی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پہلا بل ایسے افراد کی شہریت منسوخ کرنے سے متعلق ہوگا جو اسرائیلی فوجیوں کو بدنام کریں گے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق دوسرا بل ہتکِ عزت کے مقدمات میں ممکنہ مالی معاوضے کی قانونی حد میں 20 گنا اضافہ کرے گا، تاکہ فوجیوں کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز مواد کی اشاعت پر زیادہ سخت مالی کارروائی کی جاسکے۔’NAZA‘ اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل سور کی تیار کردہ دستاویزی فلم ہے، جس میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے گمنام انٹرویوز شامل ہیں۔ فلم میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اہداف کے تعین، نگرانی اور حملوں کے طریقہ کار سے متعلق ان افراد کے دعوے پیش کیے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے فلم میں عائد کیے گئے بنیادی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم نے جنگی حالات میں فوجی اہداف اور ممکنہ شہری نقصانات سے متعلق معمول کے تناسب اور احتیاطی اصولوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔

 فوج کا مؤقف ہے کہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اس کی پالیسی نہیں۔’NAZA‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ دیا گیا، جبکہ اس کی پہلی نمائش کے دوران تقریباً 25 منٹ تک تالیاں بجائی گئیں۔ فلم کے خلاف اسرائیل میں حکومتی اور فوجی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسرائیلی فوج نے فلم سے متعلق ممکنہ قانونی کارروائی کا جائزہ بھی شروع کیا ہے۔نیتن یاہو نے اپنے بیان میں فلم کے علاوہ دیگر واقعات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ مجوزہ قوانین کا مقصد اسرائیلی فوجیوں کے خلاف ان کے بقول سنگین الزامات اور بدنامی کے واقعات سے نمٹنا ہے۔ مجوزہ قانون سازی کو عدالتی جانچ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل میں شہریت منسوخی سے متعلق موجودہ قوانین محدود حالات میں ہی اس اقدام کی اجازت دیتے ہیں۔