پاکستان اور بھارت کے کرکٹ تنازع سے آئی سی سی کو مالی نقصان کا خدشہ۔

پاکستان اور بھارت کے کرکٹ تنازع سے آئی سی سی کو مالی نقصان کا خدشہ۔

ویب ڈیسک:آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور اس پر انحصار کرنے والے بورڈز کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔

 حکومت پاکستان کے فیصلے کے بعد آئی سی سی میں اضطراب پایا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان کے ممکنہ بائیکاٹ سے انٹرنیشنل کرکٹ پر مالی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بھارت کو 2024 سے 2031 کے دوران 4 آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کرنی ہے، جن میں چیمپئنز ٹرافی 2025، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026، ون ڈے ورلڈکپ 2029، اور ورلڈکپ 2031 شامل ہیں۔اگر پاکستان ان ایونٹس میں شرکت سے انکار کرتا ہے، تو آئی سی سی کے براڈکاسٹ ریونیو پر اثر پڑ سکتا ہے، جو کہ تمام رکن بورڈز کی آمدن میں تقسیم ہوتا ہے۔ آئی سی سی نے 2023 سے 2027 تک کے براڈکاسٹ حقوق 3.2 بلین ڈالرز میں فروخت کیے ہیں، لیکن پاکستان کے میچز کے بغیر ان حقوق کی قیمت میں کمی آ سکتی ہے، جس سے آئی سی سی اور اس کے رکن بورڈز کو مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

آئی سی سی کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کرکٹ کے لیے بہت اہم ہیں، کیونکہ یہ میچز شائقین کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ آئی سی سی ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے ہر ایونٹ میں کم از کم ایک بار پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ضرور ہو، تاکہ شائقین کی دلچسپی برقرار رہے۔ اگر یہ میچز نہ ہو سکیں تو آئی سی سی اور اس کے براڈکاسٹرز کو بھی مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔