حکومت نے 9 ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں کھربوں روپے جمع کر لیے

حکومت نے 9 ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں کھربوں روپے جمع کر لیے

حکومتی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 9 ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں صارفین سے خطیر رقم وصول کی گئی ہے، جس سے مجموعی ریونیو 12 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جبکہ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے نام پر بھی 35 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے ہیں۔

ماہانہ تفصیلات کے مطابق:

جولائی 2025 میں 1 کھرب 45 ارب روپے
اگست میں 1 کھرب 15 ارب روپے
ستمبر میں 1 کھرب 11 ارب روپے
اکتوبر میں 1 کھرب 45 ارب روپے
اسی طرح:

نومبر 2025 میں 1 کھرب 51 ارب روپے
دسمبر میں 1 کھرب 57 ارب روپے (سب سے زیادہ وصولی)
جنوری 2026 میں 1 کھرب 24 ارب روپے
فروری میں 1 کھرب 20 ارب روپے
مارچ میں 1 کھرب 37 ارب روپے
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے، تاہم اس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے کیونکہ اس کا بوجھ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن پر مسلسل بڑھتے ٹیکسز سے مہنگائی میں اضافہ اور ٹرانسپورٹ و اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے، جس سے مجموعی معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔