میو ہسپتال :کارروائی پر نرسز کا احتجاج

 انجکشن میں کسی قسم کا فالٹ نہیں ،محلول تیار کرنے میں کوتاہی ہوئی ، لیبارٹری ،نرسز نے ہسپتال کے صحن میں نعرے بازی 
 لاہور( کرائم رپورٹر)میو ہسپتال میں غلط انجکشن سے دو مریضوں کی ہلاکت پر میو ہسپتال کی تین نرسز کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔انجکشن اور پانی کو لیبارٹری نے کلیئر قرار دے دیا۔ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے مطابق انجکشن میں کسی قسم کا فالٹ نہیں پایا گیا لہذامحلول کو تیار کرنے میں کوتاہی برتی گئی جس پر میو ہسپتال کی تینوں نرسز کو محکمہ رپورٹ کرنے کی ہدایت کے ساتھ شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب طلب کیا گیا ہے جس کے بعد نرسز نے احتجاج کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ تینوں نرسز کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان شوکاز نوٹسز جاری کئے ہیں اور محکمہ میں واپس رپورٹ کرنے کے آرڈرز جاری کئے گئے ہیں۔جن تین نرسز کے خلاف کارروائی کی گئی ان میں حافظہ صائمہ سحر ، سنیناں خالد اور نازیہ حسن کو مریضوں کی موت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ساری صورتحال دیکھ کر نرسز نے بھی محکمہ صحت کو دھمکیاں دینا شروع کردیں اور اپنے گروپ میں احتجاج کی مکمل تیاریاں شروع کردی ہیں۔ادھر رات گئے تک نرسز احتجاج کے لیے باہر نکل آئیں۔نرسز نے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کی جانب سے ہونے والی کارروائی کے خلاف وارڈز میں کام بند کرکے میو ہسپتال کے صحن میں احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ان کا کہنا تھا کہ نرسز کے خلاف کارروائی بند اور جعلی ادویات بنانے والی کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے۔