انجکشن کا محلول تیار کرنے کے لیے کیلشیم اور رینگر لیکٹیٹ کا پانی مکس کیا گیا، انجکشن کی کلچررپورٹ میں لیگو نوکین کے استعمال کے شواہد نہیں ملے
رپورٹ میں بھی نرسز کی غفلت و لاپروائی ثابت ہو گئی ہے، مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہو سکیں،صوبائی وزیر صحت
لاہور (آئی این پی )لاہور کے میو ہسپتال میں انجکشن کے ری ایکشن سے ہونے والی اموات کی تحقیقات میں نرسز کی غفلت و لاپروائی ثابت ہوگئی، اینٹی بائیوٹک انجکشن سیفٹرائی ایگزون بالکل ٹھیک اور قابل استعمال قرار دے دیا گیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق انجکشن کی کلچر رپور ٹ سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق ڈرگ ٹیسنگ لیب لاہور کی رپورٹ میں تصدیق ہوگئی ہے کہ انجکشن کا محلول تیار کرنے کے لیے ڈسلٹڈ واٹر کے بجائے کیلشیم اور رینگر لیکٹیٹ کا پانی مکس کیا گیا، 10 مارچ کو انجکشن کے نمونے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھجوائے گئے، ٹیسٹ میں لیگو نوکین کے استعمال کے شواہد نہیں ملے۔رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جانچ کے دوران انجکشن بالکل ٹھیک نکلا مگر پائوڈر سے محلول تیار کرنے کے لیے غلط پانی کا استعمال کیا گیا، اینٹی بائیوٹک پائوڈر سے انجکشن تیار کرنے کے لیے جراثیم سے پاک پانی کے بجائے رینگر لیکٹیٹ اور کیلشیم کا پانی استعمال کیا، انجکشن کے ری ایکشن سے 2مریض جاں بحق جبکہ 14شدید متاثر ہوئے تھے۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ غفلت و لاپروائی کی مرتکب 3 نرسز کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے، اب رپورٹ میں بھی نرسز کی غفلت و لاپروائی ثابت ہو گئی ہے، نرسز کے خلاف مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہو سکیں۔