اسرائیل کے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کا نیا دور شروع

اسرائیل کے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کا نیا دور شروع

اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کا ایک بار پھر آغاز ہو گیا ہے۔

 حماس نے ان مذاکرات کی دوبارہ شروعات کی تصدیق کی ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی وفد بھی دوحہ پہنچ چکا ہے تاکہ اس معاملے پر بات چیت کی جا سکے۔اس وقت اسرائیل کے 59 یرغمالی حماس کی قید میں ہیں، جن میں سے کم از کم 24 زندہ ہیں۔ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے دوسرے مرحلے کے معاہدے کے لیے یہ مذاکرات تاخیر سے شروع ہو رہے ہیں، جو کہ ساڑھے تین ہفتے کی تاخیر کے بعد شروع ہوئے ہیں۔اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی ایک ٹیم غزہ جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت کے لیے قطری دارالحکومت دوحہ پہنچی ہے۔ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ اس ماہ کے آغاز میں ختم ہو چکا تھا، اور اب ثالثین نے اس کی توسیع کے لیے مذاکرات شروع کیے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اس بات چیت میں عارضی جنگ بندی کی توسیع کے بدلے حماس سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی کوشش کرے گا، تاکہ مزید وقت حاصل کیا جا سکے۔حماس نے بار بار اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس تجویز میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ تاہم، حماس کے ایک سینئر عہدیدار عبدالرحمٰن شدید نے الجزیرہ نیوز کو بتایا کہ دوحہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اس مذاکراتی عمل کو مثبت اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔

اس صورتحال میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کا مقصد نہ صرف یرغمالیوں کی واپسی بلکہ علاقے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا بھی ہے۔