وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف رواں ہفتے کے آخر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا:"ایلچی وِٹکوف کا مشن غزہ میں خونریزی کو روکنا اور تمام یرغمالیوں کی واپسی یقینی بنانا ہے، جو صدر ٹرمپ کی اعلیٰ ترجیح ہے۔"
"مناسب تجویز" میز پر ہے، حماس کو عمل کرنا ہوگا: وائٹ ہاؤس
ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی ایک "مناسب تجویز" کی حمایت کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حماس اس پر عمل کرے۔انہوں نے زور دیا کہ:"ہم حماس سے کہتے ہیں کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے۔ غزہ کے عوام کو امن کی ضرورت ہے۔"
حماس کا مشروط "مثبت جواب"
حماس نے امریکی اور قطری تجاویز کے جواب میں بظاہر "مثبت ردعمل" دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تین ایسے مطالبات رکھے ہیں جن میں سے کوئی بھی اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں۔ ان مطالبات میں ایک غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کا اقوام متحدہ کے متوازی امریکی نظام ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے — یہ نظام خود امریکہ نے ہی قائم کروایا تھا۔
اصل تنازعہ جنگ بندی کے بعد غزہ پر حماس کے ممکنہ اثر و رسوخ کا ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ حماس کسی بھی جنگ بندی کے بعد بھی "پاور بروکر" کی حیثیت سے خود کو غزہ میں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ یہی وہ ضد ہے جس کی وجہ سے پہلی 42 روزہ جنگ بندی معاہدہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔
اسرائیلی ردعمل: "نامنظور"
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کے نئے مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ:"یہ مطالبات ناقابل قبول ہیں، ہم دہشت گرد تنظیم کو کسی بھی صورت میں دوبارہ غزہ پر قابض نہیں ہونے دیں گے۔"
یرغمالیوں کی بازیابی: ٹرمپ کا ہدف
غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک درجنوں اسرائیلی شہری، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، حماس کی قید میں ہیں۔ ان کی بازیابی اب ٹرمپ ٹیم کی بنیادی ترجیح ہے۔
مذاکرات جاری
گزشتہ دو روز سے فریقین کے درمیان دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں جن کا مقصد باقی ماندہ اختلافات کو ختم کرنا ہے۔ وِٹکوف کا دورہ ان بات چیت کو تیز اور مؤثر بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔