پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہاف ٹرم وزیراعظم کے فارمولے کو مسترد کیا بلاول بھٹو

حکومت کا من و عن ساتھ دیتے تو پھر وفاقی حکومت کا حصہ ہوتے،ابھی تک مکمل اعتماد سازی نہیں ہوئی جس پر ہم حکومت میں شامل ہوں
 نئی کینالزکے فیصلے سے سندھ میں بہت خدشات ہیں ،اس حوالے سے متفقہ فیصلے لینے چاہئیں،  معاملے پر پیپلز پارٹی کی خاموشی کا بیانیہ سفید جھوٹ ہے
 اسلام آباد (آئی این پی )چیئرمین  پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہاف ٹرم کے وزیراعظم کے فارمولے کو مسترد کیا ہے،  قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی تیسری بڑی جماعت ہے اور ہم حکومت کے ہر فیصلے کی حمایت محض بلاجواز نہیں کر سکتے۔ اگر ہم حکومت کا من و عن ساتھ دیتے تو پھر وفاقی حکومت کا حصہ ہوتے، مگر ابھی تک مکمل اعتماد سازی نہیں ہوئی کہ ہم ان کی حکومت میں شامل ہوں،کہ نئی کینالزکے فیصلے سے سندھ میں بہت خدشات ہیں اور اس حوالے سے متفقہ فیصلے لینے چاہئیں۔ان خیالات کااظہار بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے  کہا کہ جہاں عوامی مسائل حل ہوں گے اور معیشت میں بہتری آئے گی، وہاں حکومت کی تعریف کرنا اور اس کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے، لیکن جہاں عوامی مسائل پیدا ہوں گے، وہاں اپنی رائے کا اظہار بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری بڑی جماعت ایوان میں پی ٹی آئی ہے، سوال یہ ہے کہ وہ کیا کر رہی ہے؟ ہمارے ووٹرز کا بڑا مطالبہ مہنگائی میں کمی تھا، جس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ صرف قیدی 420 کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہروں کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک سال سے نہیں ہوا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ گرین پاکستان منصوبہ دراصل پیپلز پارٹی کی ہی تجویز تھی، اور ہم ہمیشہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے حامی رہے ہیں۔