ایشیائی ترقیاتی بینک کی امدادی اشیا شام اور ترکیہ بھیج دی گئیں

بینک نے سیلاب متاثرین کیلئے  ٹینٹ اور کمبل خریدنے کیلئے گرانٹ دی تھی:آڈٹ حکام

پی اے سی کی تعمیراتی ٹھیکے میں نوازنے اور امدادی اشیاء  پر سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے معاملات حل کرنے کی ہدایت 

اسلام آباد(آن لائن)پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان میں سیلاب زدگان کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک کی امدادی اشیا شام اور ترکیہ بھجوانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ کمیٹی نے این ڈی ایم اے کی جانب سے  تعمیراتی ٹھیکے میں نوازنے اور امدادی اشیاء  پر سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے معاملات حل کرنے کی ہدایت کی ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ملک میں سیلاب سے پیشگی اطلاع کا سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے جس کے تحت کم از کم 10ماہ قبل سیلاب سے پتہ چلتا ہے۔منگل کو  چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا اجلاس میں این ڈی ایم اے اور وزارت مواصلات کے مالی سال 2023/24کے  آڈٹ اعتراضات پر غور کیا گیا    اجلاس کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ ااین ڈی ایم اے کی جانب سے کم شرح منافع پر رقم بینک میں رکھنے سے 80 کروڑ کا نقصان ہوا ہے جس پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہمارا مقصد فنڈز پر زائد سود کھانا نہیں رکن کمیٹی عمر ایوب خان نے کہاکہ چیئرمین این ڈی ایم اے کا جواب تسلی بخش نہیں ہے رکن کمیٹی امین الحق نے  کہاکہ فنڈز بینکوں میں رکھنے پر اسٹیٹ بینک کے قواعد واضح ہیں رکن کمیٹی عمر ایوب نے کہاکہ کم شرح منافع پر فنڈز نیشنل بینک میں رکھنے کا کیس نیب کو بھیجا جائے ، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ کیس نیب کا نہیں بنتا ہے ‘اجلاس میں آڈٹ حکام نے پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک کی امدادی اشیا شام اور ترکیہ کو بھجوانے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اے ڈی بی نے ٹینٹ اور کمبل خریدنے کیلئے گرانٹ دی تھی جو این ڈی ایم اے نے سیلاب متاثرین کے ٹینٹ اور کمبل ترکیہ اور شام کو بھجوا دئیے رکن کمیٹی ثناء  اللہ مستی خیل نے کہاکہ اپنے لیے کسی سے ملنے والی امداد حاتم طائی کی طرح کیسے کسی اور کو دے دی رکن کمیٹی عمر ایوب نے کہاکہ اس طرح کے کاموں سے امدادی اور مالیاتی ادارے ہم پر اعتماد نہیں کرتے ہیں