ایم کیو ایم کے وفد کی بجٹ سے قبل مطالبات کی منظوری کیلئے وزیرِ اعظم سے ملاقات

ایم کیو ایم کے وفد کی بجٹ سے قبل مطالبات کی منظوری کیلئے وزیرِ اعظم سے ملاقات

بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیرِ اعظم سے ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی، جس میں بجٹ تجاویز، بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیم اور سندھ کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں کراچی اور حیدرآباد کے لیے ترقیاتی پیکجز پر اتفاق ہوا، جس کے تحت کراچی کے لیے 20 ارب روپے جبکہ حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر اصولی ہامی بھر لی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی حکومتوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر بھی مؤقف پیش کیا، جس پر وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس معاملے پر ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی سے بات کرے گی۔ملاقات کے دوران گورنر سندھ کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی، جس پر ایم کیو ایم وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عہدہ ان کا حق ہے، تاہم حکومتی نمائندوں نے مؤقف اپنایا کہ موجودہ فیصلے مکمل ہو چکے ہیں اور آئندہ موقع پر معاملہ دیکھا جائے گا۔ایم کیو ایم کے وفد میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف شامل تھے، جبکہ حکومتی وفد میں اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ اور توقیر شاہ شریک تھے۔